Bharat Express DD Free Dish

disaster relief

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ امدادی اور بچاؤ کی ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

وینزویلا میں شدید زلزلے اور بڑے پیمانے پر تباہی کی خبروں کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں کے حوالے سے بات چیت تیز ہو گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔…

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہلی حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات شروع کر چکی ہے اور دارالحکومت میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی فائر سیفٹی پلان تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ حادثہ بدھ کی علی الصبح پالم کے سادھ نگر علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ فائر حکام کے مطابق اس حادثے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں خواتین اور کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں، جس سے واقعہ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے موقع کا دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ واقعے کی مکمل جانچ کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) بھی تیار کیا جائے گا۔

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے سیلاب زدگان کی مدد میں ریاستی و مرکزی حکومت کی دوہری پالیسی پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بہار میں امداد تو دے رہی ہے کیونکہ وہاں چند ماہ بعد انتخابات ہیں مگر پنجاب کی عوام کے لئے مدد اسلیے نہیں ہے کیونکہ یہاں کوئی الیکشن نہیں ہے۔

اس زلزلے میں اب تک 812 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں محدود مواصلات کے باوجود دور دراز علاقوں تک پہنچ کر نقصان کا تخمینہ لگانے اور امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارش کے باعث پنجاب کا وسیع حصہ زیرآب، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا۔

ہماچل پردیش میں قدرتی آفات سے شدید نقصان، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے کہا ’’امید ہے ریاستی حکومت یہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گی۔‘‘

وزیر جگت سنگھ نیگی نے عوام سے اپیل کی کہ ریڈ الرٹ کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جاری ہے۔ ’’میری گزارش ہے کہ صرف ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے نکلیں، اس وقت سب سے ضروری اپنی حفاظت ہے۔‘‘