Bharat Express DD Free Dish

diplomatic ties

مالدیپ کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل مدتِ اقتدار کے اعتبار سے ہندوستان کے طویل ترین منتخب وزیر اعظم بننا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، جو وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ہندوستانی عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

مودی کی قیادت پر دنیا کا اعتماد، نائیجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو کی زبردست ستائش۔ ہندوستان کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر نریندر مودی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر کروڑوں لوگوں کے لیے باعث تحریک ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں انہیں کئی بار جارجیا میلونی سے ملاقات کا موقع ملا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلونی کی قیادت میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو نئی رفتار، نئی سمت اور نیا اعتماد ملا ہے۔

نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنی نے اس سے قبل راج گھاٹ جا کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزارت خارجہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ گاندھی جی کے اصول آج بھی بھارت-سیشلز شراکت داری کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی دیوالی کے موقع پر دنیا بھر کے ہندوؤں اور بھارتی کمیونٹی کو نیک خواہشات پیش کیں۔ یو اے ای میں دیوالی کی رنگین تقریبات، اماراتی قیادت اور بھارتی کمیونٹی کے درمیان گرمجوشی کے پیغامات کا تبادلہ۔

سرجیو گور نے کہا ’’امریکہ بھارت کے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ میں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ شاندار ملاقات کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو ایک عظیم اور ذاتی دوست سمجھتے ہیں۔‘‘

کیر اسٹارمر نے کہا کہ جولائی میں برطانیہ میں وزیراعظم مودی کی میزبانی کرنا باعثِ فخر تھا اور چند ماہ بعد بھارت کا جوابی دورہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں ملاقات اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ بھارت کی معاشی و مالیاتی راجدھانی ہے اور بھارت کی ترقی کی کہانی واقعی غیر معمولی ہے۔

وزارت نے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے عوامی رابطوں کو فروغ ملے گا اور دوطرفہ تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ طویل تعطل کے بعد فضائی خدمات کی بحالی سے عوامی رابطے اور دوطرفہ تبادلے کو تقویت ملے گی۔