Bharat Express DD Free Dish

diplomatic gesture

نریندر مودی منگل کے روز اپنے پانچ ملکی دورے کے آخری مرحلے میں روم پہنچے تھے، جہاں ان کی ملاقات جارجیا میلونی سے عشائیے پر ہوئی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے تاریخی کولوزیم (روم میں واقع دنیا کا سب سے قدیم ایمفی تھیٹر) کا بھی دورہ کیا اور مختلف عالمی و دوطرفہ امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں سابق رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر کنور دانش علی، ممتاز سماجی کارکن فادر جان دیال، دھارمک جن مورچہ کے قومی صدر محمد سلیم انجینئر، سابق سفیر اشوک کمار شرما اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید سمیت متعدد اہم شخصیات شامل تھیں۔

ایرانی سفارتی مشنز نے دنیا بھر میں اسی نوعیت کے تعزیتی انتظامات کیے ہیں، جس سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر عالمی توجہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اجتماعی عزم کے پیغام کو اجاگر کیا گیا ہے۔

چانسلر فریڈرک مرز کو پیتل کے طیارے کی نقول، چمڑے کی پائلٹ لاگ بک اور پٹولا ریشم کی پتنگ پیش کی گئی۔ یہ تحائف بھارت کی صدیوں پرانی دستکاری کی روایت اور جرمنی کی انجینئرنگ مہارت و نظم و ضبط کے درمیان ایک خوبصورت ثقافتی مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ 

گزشتہ برس اگست میں جب شیخ حسینہ کی جمہوری طور پر منتخب حکومت پر تشدد مظاہروں کے درمیان برطرف ہوگئی تو وہ بھارت آ گئیں۔ حال ہی میں ڈھاکہ میں ایک خصوصی ٹریبونل نے انہیں غیر حاضری میں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے موت کی سزا سنائی۔ الزام تھا کہ حسینہ کی حکومت نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو بے رحمی سے دبایا۔

جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ کو وزیراعظم مودی نے ایک اعلیٰ معیار کی پشمینہ شال تحفے میں دی، جو لداخ کی چانگ تھانگی بکری کے نرم، ہلکے اور گرم اون سے بنی ہے۔ کشمیری کاریگروں کے ہاتھ سے بنائی گئی یہ شال ایک صدیوں پرانی روایت کی نمائندہ ہے، جو کبھی شاہی خاندانوں کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی۔

ہر ایک تحفہ اپنے اندر بھارت کی ایک الگ تہذیبی کہانی سمیٹے ہوئے تھا۔ یہ تحائف نہ صرف خیر سگالی کے پیغام رساں بنے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کے فنون، اقدار اور روحانی ورثے کو عزت و افتخار کے ساتھ پیش کیا۔ یہ تحائف صرف رسمی تبادلے کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی روح، روایت اور فنون کا عالمی تعارف ہیں۔