Bharat Express DD Free Dish

Diplomatic Engagement

چین میں ایس سی او اجلاس اور عالمی امور پر گفتگو، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، دہشت گردی کی مخالفت اور رابطے کے فروغ پر دیا زور، جاپان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

مئی 2022 میں برلن میں بھارت اور جرمنی کا چھٹا IGC اجلاس ہوا جس کی مشترکہ صدارت وزیراعظم مودی اور اولف شولز نے کی۔ اس موقع پر صاف توانائی، صحت، ایگروایکولوجی، مہارت کی ترقی، نقل و حرکت اور دیگر شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے آخری بار اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر پیٹرولنگ معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اتفاق کیا کہ خصوصی نمائندے جلد ملاقات کر کے سرحدی امن اور حل طلب مسائل پر پیش رفت کریں گے۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر چین کے تین روزہ دورے پر ایس سی او اجلاس میں شرکت کریں گے، جو گلوان جھڑپ کے بعد پہلا باضابطہ دورہ ہوگا، اس دورے سے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کا امکان ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گھانا کے صدر جان مہاما کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔

ایرانی صدر نے وزیر اعظم مودی کا اس مؤقف پر شکریہ ادا کیا جس میں انہوں نے کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارتی حل کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعظم مودی نے دورانِ گفتگو حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ طویل مدتی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔

یہ ملاقات بھارت اور ڈنمارک کے درمیان سبز ترقی، ماحولیات، اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں شراکت داری کے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔ جے شنکر کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہم ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ بھارت ایک ذمہ دار اور متحرک عالمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔