Bharat Express DD Free Dish

Delhi AQI Alert

دہلی کے وزیراعلیٰ کے دفترکی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سردیوں میں فضائی آلودگی کو روکنے کے لئے حکومت نے سخت اقدامات کئے ہیں۔ اب درست اور مؤثرپی یوسی (پالیوشن انڈرکنٹرول) سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گاڑی کوپٹرول، ڈیژل یا سی این جی فراہم نہیں کی جائے گی اوریہ ضابطہ پورے سال نافذ رہے گا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کوصاف ستھرا اورصحت مند بنانے کے لئے ہرشہری کی شرکت ضروری ہے۔

فروری کا آدھا مہینہ گزرنے کے ساتھ ہی شمالی بھارت کے موسم کے مزاج میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جہاں باڑمیر جیسے علاقوں میں پارہ 35 ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے، وہیں ایک نئے مغربی ہواؤں کے سلسلے (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے باعث پہاڑی علاقوں میں برفباری اور میدانی خطوں میں ہلکی بوندا باندی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

فروری کی شروعات کے ساتھ ہی شمالی بھارت میں موسم نے اچانک کروٹ لے لی ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور پہاڑی ریاستوں میں کہیں گھنا کہرا تو کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش اور برف باری نے سردی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، حالیہ دنوں میں تیز ہواؤں کے باعث اسموگ اور بڑھتی آلودگی پر کسی حد تک قابو پایا گیا ہے، لیکن مکمل راحت نہیں ملی۔ 7 جنوری کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

بڑھتی آلودگی کو دیکھتے ہوئے ’گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان‘ (GRAP) کے تیسرے مرحلے کو سختی سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت غیر ضروری تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو دہلی کے زیادہ تر علاقوں میں فضا ’بہت خراب‘ کیٹیگری میں رہی اور متعدد مقامات پر آلودگی کا لیول تشویشناک حد تک پہنچا۔ دہلی کینٹ میں اے کیوآئی 302 ریکارڈ ہوا، جب کہ بوانا میں 334، ڈی ٹی یو میں 331،

آلودگی کے باعث:دمہ اور سانس کے مریضوں کو شدید دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، تھکن، گھبراہٹ اور سر درد کی شکایات میں اضافہ،پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر۔

دہلی کے اے آئی آئی ایم ایس (AIIMS) علاقے کی فضا نسبتاً بہتر رہی، جہاں اے کیو آئی 277 ریکارڈ ہوا جسے سی پی سی بی نے ’’خراب‘‘ (Poor) درجہ بندی میں رکھا ہے، تاہم یہ بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔