Kashmiri Pandits: ’’کشمیری پنڈتوں کے بغیر جموں و کشمیر ادھورا‘‘ فاروق عبداللہ نے ہجرت کو سب سے بڑا نقصان قرار دیا، واپسی کی جذباتی اپیل
1990 میں تقریباً 57 ہزار خاندانوں کو وادی چھوڑنی پڑی تھی، جن میں بڑی تعداد کشمیری پنڈتوں کی تھی۔ یہ خاندان جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ ہجرت نہ صرف انسانی المیہ تھی بلکہ اس نے کشمیر کی صدیوں پرانی گنگا-جمنی تہذیب کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔





