Bharat Express DD Free Dish

Baramulla

انجینئر رشید اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں بطور ملزم عدالتی حراست میں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انجینئر رشید نے بارہمولہ پارلیمانی حلقے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔ کارروائی کے دوران کچھ دیر کے لیے شاہراہ پر آمد و رفت معطل رکھی گئی تاکہ کسی بھی خطرے سے بچا جا سکے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں وادی میں امن و امان کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے،

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسی گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں کی واضح اور پرزور مذمت کرنی چاہیے۔ اس بات چیت کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کے ساتھ امریکہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

ایل او سی کے قریب بوٹاپتھر گلمرگ کے ناگن پوسٹ علاقے کے قریب فوج کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ حالانکہ فوج کی جانب سے تصدیق کا انتظار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دراندازی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

سب سے کم بارہمولہ میں ہوئی ووٹنگ ہوئی ہے، جہاں پانچ بجے تک 55.73 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دیگر اضلاع میں بھی ووٹنگ کچھ حدتک بہتر دکھائی دے رہی ہے۔

گاؤں والوں نے بتایا کہ ہر دوسرا خاندان مویشیوں پر منحصر ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر گائے پالتے ہیں۔ وہ اس سے جمع ہونے والا دودھ، گھی اور دیگر دودھ کی مصنوعات بیچ کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔

وسائل کی کمی کی وجہ سے ایک طرف روہنگیا مسلمان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں تو دوسری طرف انہیں کئی بار ان مجرمانہ سرگرمیوں

ابھی تک اس بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ منی بس کو حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ بس میں کتنے مسافر سوار تھے اس بارے میں بھی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ساتھ ہی، ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

دہشت گرد اونچی پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی جگہ بھی مسلسل تبدیل کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا سراغ لگانے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ان کے لیے فوج اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا آسان ہے۔