Bharat Express DD Free Dish

All India Weather Update

کشمیر وادی میں جاری شدید برفباری نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خراب موسم، کم حد نگاہ اور رن وے پر برف جم جانے کے باعث آج صبح تک مجموعی طور پر24 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

شمالی ہند میں سردی کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ دہلی میں اگرچہ کہر میں کمی آئی ہے، لیکن محکمہ موسمیات نے اتر پردیش اور بہار میں آئندہ تین دنوں کے لیے شدید سردی (سرد لہر) اور گھنے کہر ےکا الرٹ جاری کیا ہے۔ دو نئے مغربی ہوائی دباؤ (ویسٹرن ڈسٹربینس) کے باعث پہاڑی علاقوں میں برفباری کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے گہرے دباؤ کے اثر سے تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور کیرالہ میں اگلے 48 گھنٹوں تک موسم سرگرم رہے گا۔ ان ریاستوں کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

جموں و کشمیر میں سردی سب سے زیادہ شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گلمرگ میں درجہ حرارت صفر سے 6.5 ڈگری نیچے چلا گیا ہے، جب کہ پہلگام میں بھی پارہ منفی 5 ڈگری کے آس پاس بنا ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ سات دنوں تک شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں گھنے سے انتہائی گھنے کہرے کا امکان ہے۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، بہار اور راجستھان میں کہرے کا اثر برقرار رہے گا

ادھر پہاڑی ریاستوں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے اونچے علاقوں میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ چِلّاۓ کلاں کے باعث جنوری بھر یہ صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کا اثر میدانی علاقوں کی سردی پر بھی پڑے گا۔

شمالی بھارت میں سردی کی شدت اور گہرے دھند کے درمیان نئے سال کا آغاز ہوا ہے۔ دہلی میں آج بارش کا امکان ہے، جبکہ پہاڑوں پر برفباری سے میدانی علاقوں میں درجۂ حرارت مزید گرے گا۔

دہلی، اتر پردیش، بہار سمیت پورے شمالی بھارت میں گھنا کوہرا اور شدید سردی کی لہر کا اثر برقرار ہے۔ محکمۂ موسمیات نے 31 دسمبر تک کوہرے کا الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ یکم جنوری کو کچھ راحت ملنے کا امکان ہے۔

شمالی ہند کی 8 ریاستوں میں شدید کہرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ کمزور حد نگاہ (ویژیبلیٹی) کے باعث سڑک، ریل اور فضائی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔

دارالحکومت دہلی سمیت پورے این سی آر میں ہفتہ کی صبح موسم نے خطرناک رخ اختیار کر لیا۔ شدید کہر کے باعث حدِ نگاہ تقریباً صفر کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ کم سے کم درجۂ حرارت 7 ڈگری سیلسیس تک گرنے کا اندازہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی آلودگی کی سطح (اے کیو آئی) بھی کئی علاقوں میں 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔