Bharat Express DD Free Dish

Violent Clash in Birbhum: مغربی بنگال کے بیر بھوم میں دو گروپوں کے درمیان پرتشدد تصادم، انٹرنیٹ خدمات 17 مارچ تک معطل

مغربی بنگال حکومت کے محکمہ داخلہ اور ہِل افیئرس کے پرنسپل سکریٹری نے انٹرنیٹ اور کال سروسز کی معطلی کے پیچھے غیر قانونی سرگرمیوں کی افواہوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس دوران بیر بھوم میں پتھراؤ کے واقعات کی اطلاعات کے بعد متاثرہ علاقوں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

بھوم میں انٹرنیٹ خدمات 17 مارچ تک معطل

بیر بھوم: مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں دو گروپوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق جمعہ کی دوپہر بیر بھوم کے سینتھیا میں دو گروپوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا شروع ہو گیا۔

معلومات کے مطابق ایک گروپ کے لوگ نشے میں تھے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔ دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی ہوئی اور ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ اس دوران، 17 مارچ کو بیر بھوم ضلع کے سینتھیا قصبے کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور وائس اوور انٹرنیٹ ٹیلی فون خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروسز پر پابندی کا اطلاق 14 مارچ سے 17 مارچ تک ہو گا۔

مغربی بنگال حکومت کے محکمہ داخلہ اور ہِل افیئرس کے پرنسپل سکریٹری نے انٹرنیٹ اور کال سروسز کی معطلی کے پیچھے غیر قانونی سرگرمیوں کی افواہوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس دوران بیر بھوم میں پتھراؤ کے واقعات کی اطلاعات کے بعد متاثرہ علاقوں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق امن عامہ کو برقرار رکھنے اور کسی بھی جرم پر اکسانے کی روک تھام کے لیے عارضی طور پر پیغامات نشر نہیں کیے جائیں گے۔ حالانکہ، وائس کالز اور ایس ایم ایس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جانکاری اور اطلاع کی ترسیل اور نشر کو کسی بھی طرح روکا نہیں گیا ہے۔

بیر بھوم ضلع کے جن علاقوں میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سینتھیا، ہٹورا گرام پنچایت (جی پی)، مٹھ پالسا جی پی، ہریسارا جی پی، دریا پور جی پی اور پھولور جی پی شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read