مدھیہ پردیش کے سیونی ضلع میں جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (DRI) اور محکمہ جنگلات کی مشترکہ کارروائی میں اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے شیر کے 9 ناخن، 61 ہڈیاں اور ایک شیر کے بچے کی سڑی ہوئی لاش ضبط کی گئی ہے۔اس کارروائی میں 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جو ان نایاب باقیات کو غیر قانونی طور پر بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ڈی آر آئی کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ان باقیات کی بہت زیادہ مانگ ہے، خاص طور پر چین میں جہاں ان کا استعمال روایتی ادویات اور تعویذ بنانے میں کیا جاتا ہے۔
یہ کارروائی ریاست میں جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب اشارہ کرتی ہے، اور اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جنگلات میں اسمگلروں کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے
مدھیہ پردیش کے ضلع سیونی سے جنگلی حیات کی اسمگلنگ سے جڑا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) اور محکمہ جنگلات نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شیر کی باقیات کے ساتھ 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان ان نایاب باقیات کو
بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ڈی آر آئی کے مطابق اسمگلروں کے قبضے سے شیر کے 9 ناخن، 61 ہڈیاں اور ایک شیر کے بچے کی سڑی ہوئی لاش برآمد ہوئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ان اشیاء کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ خاص طور پر چین میں روایتی چینی طب اور تعویذ بنانے کے لیے شیر کی باقیات کا استعمال ہوتا ہے۔
اس حوالے سے ڈی آر آئی نے ایک بیان میں کہا:
“ایک مشترکہ مہم میں، ڈی آر آئی اور محکمہ جنگلات نے مدھیہ پردیش کے سیونی میں شیر کے نو ناخن، 61 ہڈیاں اور ایک شیر کے بچے کی سڑی ہوئی لاش ضبط کی۔ ان باقیات کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل اکولا اور اجین میں بھی جنگلی حیات کی برآمدگی ہو چکی ہے، جس سے جنگلی حیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے اور نایاب اقسام کے تحفظ کے لیے ڈی آر آئی کے عزم کی تصدیق ہوتی ہے۔”
اسمگلروں کے قبضے سے برآمد شیر کے ناخن اور ہڈیاں
اکولا اور اجین میں پہلے بھی ہو چکی ہیں ایسی وارداتیں

مدھیہ پردیش میں شیر کی باقیات کی اسمگلنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ڈی آر آئی کے مطابق اس سے پہلے اکولا اور اجین میں بھی ایسے ہی اسمگلروں سے جنگلی جانوروں کی باقیات برآمد کی گئی تھیں۔ ریاست میں آئے دن ہونے والی جنگلی حیات کی اسمگلنگ سے یہ واضح ہے کہ مدھیہ پردیش کے جنگلات میں اسمگلروں کا ایک منظم گروہ سرگرم ہے، جس کا نیٹ ورک کافی گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔
کیوں ضروری ہے اس پر روک لگانا؟

شیر کو جنگل کی “کی اسٹون اسپیشیز” (مرکزی نوع) مانا جاتا ہے۔ اگر یہ ختم ہو گئے تو جنگلات کا پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا۔
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (NTCA) کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 5 سالوں میں بھارت میں قدرتی، غیر قانونی شکار اور دیگر وجوہات کی بنا پر کل 628 شیروں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں:
- 2019 میں 96 شیروں کی موت ہوئی
- 2020 میں 106
- 2021 میں 127
- 2022 میں 121
- 2023 میں 178 شیروں نے جان گنوائی
فی الحال بھارت میں جنگلی شیروں کی آبادی 3628 ہے، جو دنیا کی کُل آبادی کا 75 فیصد ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
Beta feature
Beta feature
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

