قومی

Just two friends in a car: ولادیمیر پوتن کا بڑا انکشاف، کارپول میری تجویز تھی،  پی ایم مودی جی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا میرے لیے خاص لمحہ تھا

ھارت کی سرزمین پر قدم رکھنے سے صرف چند گھنٹے پہلے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کریملن کے کیتھرین ہال میں ایک ایسا خصوصی انٹرویو دیا ،جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ پہلی بار انہوں نے دو بھارتی خاتون صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کے بارے میں اپنے ذاتی جذبات شیئر کیے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی کھل کر گفتگو کی۔ یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت—روس تعلقات ایک نئے موڑ پر ہیں اور عالمی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔

اس گفتگو کے دوران ولادیمیر پوتن نے وہ حقیقت بھی بتا دی جو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمٹ کے بعد مودی اور ولادیمیر پوتن کی مشترکہ کار رائیڈ کے بارے میں برسوں سے زیرِ بحث تھی۔ تیانجن میں ہونے والی سمٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کو ایک ہی Aurus Senate گاڑی میں سفر کرتے دیکھا گیا تھا، جو ایک تاریخی لمحہ بن گیا تھا۔

ولادیمیر پوتن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کارپول کے پیچھے کوئی سفارتی ضابطہ یا پہلے سے طے شدہ پروگرام نہیں تھا۔ “یہ میری طرف سے تجویز تھی، ہم دونوں کے درمیان اعتماد اور ذاتی قربت کا اظہار تھا”، انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق وہ دونوں گاڑی میں بیٹھتے ہی بات چیت میں مصروف ہو گئے اور یہ گفتگو منزل پر پہنچنے کے بعد بھی 45 منٹ تک جاری رہی۔

نریندر مودی کی پوسٹ، ولادیمیر پوتن کا انتظار اور طویل گفتگو

SCO سمٹ سے واپسی کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کے ساتھ گفتگو ہمیشہ بامعنی ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس دن پیوٹن خود تقریباً دس منٹ تک وزیراعظم مودی کا انتظار کرتے رہے۔ دونوں رہنما سمٹ وینیو سے ہوٹل تک ایک ساتھ گئے اور وہاں پہنچ کر بھی آدھے گھنٹے سے زائد غیر رسمی گفتگو جاری رکھی۔ اس دوران عالمی سیاست میں بھارت—امریکہ تعلقات میں ہلکی کشیدگی ضرور تھی، مگر بھارت—روس دوستی میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

عالمی تناؤ کے درمیان یہ پیغام کیوں اہم؟

حال ہی میں امریکہ نے روسی خام تیل کی خریداری پر بھارت کو تنبیہات اور اضافی ٹیکسوں کا سامنا کرایا، جس سے دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات میں بے چینی پیدا ہوئی۔ لیکن ولادیمیر پوتن اور مودی کی یہ دوستی عالمی سیاست کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی دباؤ میں آکر نہیں چلاتا۔ روس کے ساتھ بھارت کا رشتہ نہ صرف اسٹریٹجک سطح پر مضبوط ہے بلکہ قیادت کے درمیان ذاتی اعتماد کی بنیاد پر بھی قائم ہے۔

یہ دورہ کیوں تاریخی ہے؟

ولادیمیر پوتن کا یہ دورہ 2021 کے بعد پہلی بھارت دورہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت—روس اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال اور 23واں سالانہ سربراہی اجلاس بھی اسی موقع پر ہو رہا ہے، جو اسے مزید اہمیت دیتا ہے۔

ولادیمیر پوتن کا مکمل شیڈول

بھارتی دارالحکومت دہلی نے ولادیمیر پوتن کا غیرمعمولی احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے پروٹوکول سے ہٹ کر خود ایئرپورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں خصوصی عشایئے کا اہتمام کیا گیا۔

آج دونوں ممالک کے نمائندہ وفود آمنے سامنے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، توانائی اور تجارت سے متعلق کئی اہم پالیسی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دن کے اختتام پر دونوں رہنما مشترکہ بیان بھی جاری کریں گے۔یہ دورہ نہ صرف جیو پولیٹکس میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ یہ بھارت—روس تعلقات کے مستقبل کے لیے بھی نئے امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

1 hour ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

2 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

3 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

4 hours ago