قومی

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

بالی ووڈ اداکارہ سوّرا بھاسکر ایک بار پھر اپنے بے باک بیانی کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ ’دی مڈنائٹ آور‘ پوڈکاسٹ میں انہوں نے 2019 کے بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے ردعمل کو یاد کیا۔ سوّرا نے کہا کہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد وہ کافی پریشان ہوگئی تھیں اور انہیں یہ فیصلہ غیر منصفانہ محسوس ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہوں نے اپنے فون میں موجود کئی مسلم دوستوں سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی بات بتائی۔

’فیصلہ آیا تو میں بہت پریشان ہوگئی تھی‘

سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب صدیوں سے قائم بابری مسجد کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق انہیں یہ فیصلہ غیر منصفانہ لگا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے مسلم دوستوں کو پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلے کے بعد انہوں نے اپنے فون بک میں موجود کئی مسلم دوستوں سے رابطہ کیا، جن میں عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان کے علاوہ فہد احمد بھی شامل تھے۔ سوّرا کے مطابق انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ایک ہندو ہونے کے ناطے وہ انہیں بتانا چاہتی ہیں کہ وہ اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ سوّرا نے کہا کہ اس وقت انہیں ’بہت شرمندگی‘ محسوس ہو رہی تھی اور وہ اپنے مسلم دوستوں تک اپنی بات پہنچانا چاہتی تھیں۔ تازہ رپورٹس میں بھی ان کے اسی بیان کا ذکر کیا گیا ہے۔

’ایک ہندو ہونے کے ناطے مجھے شرمندگی محسوس ہوئی‘

اداکارہ اور سماجی کارکن نے کہا کہ فیصلے کے بعد وہ اپنے مسلم دوستوں سے معذرت کرنا چاہتی تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے ان کے بیان پر تنقید کی، جبکہ سوّرا بھاسکر کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی تبصرے کیے گئے۔

پدماوتی کے بیان پر بھی ہوا تھا تنازع

سوّرا بھاسکر حال ہی میں فلم ’پدماوت‘ میں جوہر کے منظر سے متعلق اپنے بیان کے سلسلے میں بھی تنازع میں رہی ہیں۔ 31 اگست 2026 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں منعقد ایک پروگرام میں انہوں نے فلم کے جوہر والے منظر پر سوال اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بیان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔

تاہم بعد میں سوّرا بھاسکر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیان کا غلط ترجمہ اور غلط مفہوم پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ انہوں نے رانی پدماوتی یا جوہر کرنے والی خواتین کو ’بزدل‘ نہیں کہا تھا، بلکہ ان کی تنقید فلم کے منظر اور اس سے پیدا ہونے والے پیغام پر تھی۔ اب بابری مسجد کے خلاف فیصلے سے متعلق ان کے تازہ بیان کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

2 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

3 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

4 hours ago

PM Modi 76th Birthday: دفاع، خارجہ امور سے لے کر وزیر خزانہ تک، مرکزی وزرا نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی دی مبارکباد

76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…

6 hours ago