اڈانی گروپ میں ایل آئی سی کی سرمایہ کاری کو لے کر جاری تنازعے کے درمیان پیر (1 دسمبر) کو پارلیمنٹ میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے بیان کے بعد عوام اور ماہرین کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں صاف طور پر کہا کہ وزارت خزانہ ایل آئی سی کو سرمایہ کاری کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی صلاح یا حکم نہیں دیتی ہے۔ ایل آئی سی تمام طرح کی سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے طے شدہ ایس او پیز اور مکمل جانچ پڑتال (ڈیو ڈیلیجنس) کے بعد لیتی ہے۔
ماہر معاشیات منیش بریار وزیر خزانہ کے بیان کے بعد کہتے ہیں کہ ”بھارت کے دشمن،کچھ خاص لوگوں کی طرف سے ایل آئی سی کو بدنام کرنے کی بہت کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی بات وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی کہی ہے۔ انہوں نے بالکل واضح طور پر کہا کہ ایس او پیز موجود ہیں اور ایل آئی سی انہی کے مطابق سرمایہ کاری کرتی ہے۔ دوسرے ادارے بھی موجود ہیں۔ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اس کا مالیاتی تحفظ کا نظام بہت مضبوط اور وسیع ہے“۔
منیش بریار نے انویسٹمنٹ کے حوالے سے جاری تنازع کو فضول بیان قرار دیتے ہوئے آگے کہا کہ بھارتی مالیاتی نظام میں بہت سارے ریڈ فلیگ (احتیاطی نشان) موجود ہیں اور سیبی سے لیکر آئی آر ڈی اے تک تمام ادارے بڑی محنت سے کام کرتے ہیں تاکہ کسی طرح کی گڑبڑی نہ ہو۔ جب وزیر خزانہ جیسے منصب پر فائز شخص کوئی بات کہتا ہے تو اس کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔
منیش بریار نے کہا کہ ایل آئی سی 1 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری نہیں کرتی ہے۔ بھارتی، خاص طور پر کانگریس کے لوگ، واشنگٹن پوسٹ جیسی چیزوں کے بارے میں کیوں بات کرتے ہیں، جس کی خبریں کئی بار جعلی ثابت ہو چکی ہیں؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ خاص لوگوں کے مفادات جڑے ہیں، ایک جیوا پولیٹکس چل رہی ہے اور اسی لیے میرا خیال ہے کہ ہمیں ایل آئی سی کی سرمایہ کاری کے بارے میں فضول بیانات دینے کے بجائے بہت محتاط رہنا چاہئے۔
ایل آئی سی کو سیاست سے دور رکھنی چاہیے
اس کے علاوہ، پولیٹیکل اینالسٹ تحسین پوناوالا نے بھی وزیرِ خزانہ کے بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایل آئی سی ملک کے لیے اچھا کام کر رہی ہے۔ بھارت ایل آئی سی پر بھروسہ کرتا ہے۔ ہمیں ایل آئی سی کو سیاست سے دور رکھنا چاہئے۔ تحسین پوناوالا نے کہا کہ “ایل آئی سی ایک بہت پروفیشنل طریقے سے چلائی جاتی ہے، جس کا ایکویٹی پورٹ فولیو 15 لاکھ کروڑ روپے کا ہے اور وہ بھارت کی 55 لاکھ کروڑ روپے کی بچت کو مینیج کر رہی ہے۔ وہ صرف اس لیے کہیں پیسہ سرمایہ کاری نہیں کر سکتے کہ کسی وزیر نے آرڈر دے دیا ہو۔ ایل آئی سی کے اپنے قوانین اسے اپنے کل فنڈ کے 1 فیصد سے زیادہ کسی ایک کارپوریٹ گروپ میں سرمایہ کاری کرنے سے روکتے ہیں۔ 2017 میں اڈانی گروپ میں ایل آئی سی کی سرمایہ کاری تقریباً 30,000 کروڑ تھی، جو آج تقریباً 65,000 کروڑ ہو گئی ہے، یعنی یہ صرف بڑھی ہے۔ اس نے لوگوں کا پیسہ نہیں ڈبویا ہے”۔
اڈانی کی سرمایہ کاری میں سے تقریباً 5000 کروڑ روپے کی ایک رقم ٹرپل-اے بانڈ میں تھی۔ اڈانی کی اس خاص بانڈ سیریز میں بھی کئی بین الاقوامی بینکوں اور دیگر سرمایہ کاروں نے انویسٹ کیا تھا۔ ایل آئی سی ایک پروفیشنل ادارہ ہے اور یہ ملک کے لیے اچھا کام کر رہی ہے۔ بھارت ایل آئی سی پر بھروسہ کرتا ہے۔ ہمیں ایل آئی سی کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ یہاں تک کہ وزیرِ خزانہ یا وزیراعظم بھی ایل آئی سی کو فون کرکے یہ نہیں کہہ سکتے کہ کہاں سرمایہ کاری کی جائے یا نہ کی جائے۔
تحسین پوناوالا نے کہا کہ ”میں بی جے پی کے خلاف ہوں۔ مجھے بی جے پی پسند نہیں ہے۔ لیکن ہمیں بھارت کے لیے مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے اور ایل آئی سی بھارت کا حصہ ہے، لہٰذا ہمیں ایل آئی سی کے لیے بہترین امید رکھنی چاہیے۔ ایل آئی سی کو بھی درست طریقے سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اسے پارلیمنٹری کمیٹیوں کے سامنے شفاف ہونا چاہیے۔ آخرکار یہ ایک پبلک کمپنی ہے۔ اسے یہ بتانا چاہیے کہ اس نے کہاں سرمایہ کاری کی ہے، کیونکہ آخرکار اسے فنڈ ٹیکس دہندگان سے ہی ملتا ہے“۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
