نئی دہلی: اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر اشوِنی ویشنو نے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فرضی خبریں اور گمراہ کن معلومات جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غلط معلومات، فرضی خبریں اور اے آئی سے تیار ہونے والے ڈیپ فیک ویڈیوز کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ضرورت ہے۔ وزیر نے کہا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا کا استعمال اس طرح کر رہے ہیں جیسے وہ ملک کے آئین یا پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس غیر ذمہ دارانہ طرزعمل کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور فوری اقدام ضروری ہیں۔
اشوِنی ویشنو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حال ہی میں حکومت نے نئے قواعد نافذ کیے ہیں جن کے تحت 36 گھنٹوں کے اندر اندر قابلِ اعتراض ویڈیوز ہٹانا لازمی ہوگا۔ اسی کے ساتھ اے آئی سے تیار کی جانے والی ڈیپ فیک فائلوں کی شناخت کے لیے ایک مسودہ قانون بھی جاری کیا گیا ہے، جس پر مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ نشی كانت دوبے اور دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے متعلق اہم سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ فیک نیوز اور سوشل میڈیا سے متعلق چیلنجوں میں اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پوری حساسیت کے ساتھ یہی توازن برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اشوِنی ویشنو نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ڈیجیٹل انڈیا مشن نے ملک میں ٹیکنالوجی تک عام آدمی کی رسائی کو آسان بنایا ہے اور اس کے مثبت اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ہر شہری کو اپنی آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم دیا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کو روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد اداروں اور سماجی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے والے اعتماد کو مضبوط کرنا ہے، تاکہ جمہوری نظام پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
