ملک میں کووڈ ایکٹیو کیسز کی تعداد میں کمی۔
نئی دہلی: کووڈ انفیکشن کے نئے قسم کی رفتار تھمنے سے ہندوستان کو بڑی راحت ملی ہے۔ ہندوستان میں مسلسل تیسرے دن کووڈ انفیکشن کے معاملات میں کمی آئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد ملک بھر میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 7 ہزار سے نیچے آگئی ہے۔ مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے یہ نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
ایک دن میں انفیکشن کے 428 کیسز ہوئے کم
وزارت صحت نے کووڈ انفیکشن کے حوالے سے 17 جون کی صبح 8 بجے تک کے اعداد و شمار جاری کیے۔ وزارت کے مطابق ملک بھر میں ایک ہی دن میں انفیکشن کے 428 کیسز کم ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ اب کووِڈ کے ایکٹیو کیسوں کی تعداد کم ہو کر 6836 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز انفیکشن کے معاملات میں 119 کی کمی آئی تھی۔
کیرالہ میں سب سے زیادہ 261 کیسز ہوئے کم
وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیرالہ میں سب سے زیادہ 261 کیسز کم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات میں 185، دہلی میں 94، مہاراشٹر میں 28، آندھرا پردیش میں 18، سکم میں 13، آسام میں 3، تلنگانہ، بہار، چھتیس گڑھ اور گوا میں ایک ایک کیس کم ہوا ہے۔ اس کمی کے بعد، کیرالہ میں کیسوں کی کل تعداد اب 1659 ہے۔ فی الحال، گجرات میں 1248 ایکٹیو کیسز، کرناٹک میں 696، دہلی میں 555، مہاراشٹر میں 512، اتر پردیش میں 278، راجستھان میں 251، تمل ناڈو میں 222، ہریانہ میں 103 ہیں۔
کچھ ریاستوں میں کووڈ کیسز میں معمولی اضافہ
حالانکہ، کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں کورونا کے معاملات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کرناٹک میں سب سے زیادہ 105 نئے کیس درج ہوئے ہیں۔ راجستھان میں 29 افراد متاثر ہوئے ہیں، جب کہ ہریانہ میں 12 اور پنجاب میں 10 افراد کووڈ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ منی پور میں 6، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں 3، اڈیشہ- تریپورہ اور تمل ناڈو میں 2، اور جھارکھنڈ- لداخ- ناگالینڈ اور اتراکھنڈ میں ایک ایک کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں انفیکشن سے ایک کی موت
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں انفیکشن کی وجہ سے ایک موت کی اطلاع ملی ہے۔ مہاراشٹر کی ایک 44 سالہ خاتون کووڈ انفیکشن کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




