چندرایان-2 نے سورج کے چاند پر پڑنے والے اثر کا پتہ لگایا۔
چنئی: بھارتی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اِسرو) نے ہفتے کے روز کہا کہ 2019 میں لانچ کیے گئے چندرایان-2 مشن نے اپنے سائنسی آلات کی مدد سے پہلی بار یہ معلوم کیا ہے کہ سورج سے نکلنے والی ’کورونل ماس ایجیکشن‘ (CME) کا چاند پر کیا اثر پڑتا ہے۔
بنگلور میں قائم خلائی ایجنسی نے کہا کہ اس مشاہدے سے چاند کے باہری فضائی غلاف (lunar exosphere)، اس کے نہایت باریک ماحول اور سطح پر خلائی موسم کے اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ سری ہری کوٹا سے 22 جولائی 2019 کو GSLV-Mk3-M1 راکٹ کے ذریعے داغا گیا چندرایان-2 مشن آٹھ سائنسی آلات سے لیس تھا اور 20 اگست 2019 کو کامیابی کے ساتھ چاند کے مدار میں پہنچا۔
اِسرو کی ایک اعلامیہ کے مطابق، چندرایان-2 پر نصب آلات میں سے ایک — ’چندرا ایٹموسفیرک کمپوزیشنل ایکسپلورر-2‘ (CHACE-2) — نے سورج سے خارج ہونے والے ’کورونل ماس ایجیکشن‘ کے چاند کے باہری ضائی غلاف پر پڑنے والے اثرات کو ریکارڈ کیا ہے۔
CHACE-2 آلے کا بنیادی مقصد چاند کے غیر برقی بیرونی فضائی غلاف (نیوٹرل ایکسوسفیئر) کی ترکیب، اس کے پھیلاؤ اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنا ہے۔
چاند پر کورونل ماس ایجیکشن کا اثر بہت زیادہ
کورونل ماس ایجیکشن سورج کے نظامِ شمسی میں ہونے والے سب سے طاقتور دھماکوں میں سے ایک ہے۔ اس دوران سورج ہیلیم اور ہائیڈروجن آئنز خارج کرتا ہے۔ چاند پر اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں نہ تو ہوا موجود ہے اور نہ ہی کوئی بڑا مقناطیسی میدان (magnetic field) جو سورج کے اثرات سے اس کی سطح کو کسی حد تک محفوظ رکھ سکے۔
چندرا ایٹموسفیرک کمپوزیشنل ایکسپلورر-2 (CHACE-2) کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ سورج سے آنے والے کورونل ماس ایجیکشن کے اثر سے دن کے وقت چاند کے باہری فضائی غلاف (انتہائی باریک ماحول) کے کل دباؤ میں اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ ان نظریاتی ماڈلز کے مطابق ہے جن میں پہلے ہی ایسے اثرات کی پیش گوئی کی گئی تھی، مگر چندرایان-2 پر نصب سائنسی آلے نے پہلی بار اس اثر کو براہِ راست مشاہدہ کیا۔
چاند پر کورونل ماس ایجیکشن (CME) کے اثر کو براہِ راست دیکھنے کا یہ نایاب موقع 10 مئی 2024 کو حاصل ہوا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
