نئی دہلی: گروگرام کی گالف کورس روڈ پر اتوار کو ایک خاتون بائیک رائیڈر کے ساتھ مبینہ ہٹ اینڈ رن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خاتون کے مطابق وہ اپنے ساتھی بائیکرز کے ساتھ ویک اینڈ رائیڈ پر نکلی تھیں، اسی دوران ایک تیز رفتار کار سوار نے ان کا مسلسل پیچھا شروع کر دیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ کار ڈرائیور کئی مرتبہ خطرناک انداز میں ان کی موٹر سائیکل کے انتہائی قریب آیا اور راستہ کاٹنے کی کوشش کی۔ وہ مبینہ طور پر خاتون کو سڑک کے کنارے موٹر سائیکل روکنے کے لیے بھی کہتا رہا۔ خاتون نے جب کار سے فاصلہ بنانے کی کوشش کی تو صورتحال مزید خطرناک ہوگئی۔
لین تبدیل کرتے وقت موٹر سائیکل کو ماری ٹکر
متاثرہ خاتون کے مطابق وہ کار سے بچنے کے لیے لین تبدیل کرکے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں، اسی دوران کار سوار نے ان کی موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ خاتون توازن کھو بیٹھیں اور موٹر سائیکل سے گر کر سڑک پر گھسٹتی چلی گئیں۔ خوش قسمتی سے خاتون نے مکمل رائیڈنگ گیئرز پہن رکھے تھے، جن میں ہیلمٹ، جیکٹ اور گھٹنوں کی حفاظت کے لیے گارڈز شامل تھے۔ اسی وجہ سے انہیں زیادہ سنگین نقصان سے بچنے میں مدد ملی، تاہم ان کے جسم پر چوٹیں اور خراشیں آئیں۔
ساتھی بائیکر نے کار روکنے کی کوشش کی
حادثے کے فوراً بعد خاتون کے ایک ساتھی بائیکر نے کار کا پیچھا کیا۔ اگلی ریڈ لائٹ پر اس نے اپنی موٹر سائیکل کار کے آگے لگا کر مبینہ طور پر ڈرائیور کو روکنے کی کوشش کی، لیکن کار سوار نے رکنے کے بجائے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی۔ الزام ہے کہ کار ڈرائیور نے وہاں بھی موٹر سائیکل کو سائیڈ سے ٹکر ماری اور موقع سے فرار ہوگیا۔ اس دوران پیچھے آ رہے دیگر بائیکرز کے ہیلمٹ کیمروں میں بھی واقعے کی فوٹیج ریکارڈ ہوگئی۔
ویڈیو شیئر کرکے پولیس سے کارروائی کی اپیل
متاثرہ خاتون نے واقعے کی ویڈیو اور گوپرو فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے گروگرام پولیس سے معاملے کا نوٹس لینے اور ذمہ دار کار ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سڑکوں پر خواتین کی حفاظت اور خطرناک ڈرائیونگ کے خلاف کارروائی کو لے کر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


