پیداوار سے منسلک مراعات (Production Linked Incentive – PLI) اسکیم، جو بھارت کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، کے تحت اب تک 14 شعبوں میں 806 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں، پارلیمنٹ کو منگل کے روز آگاہ کیا گیا۔
کامرس و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ جولائی تک مالی سال 2025-26 کے دوران 1,856 کروڑ روپے کی مراعات جاری کی گئی ہیں، جبکہ اسکیم کے آغاز سے اب تک کل 21,689 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ PLI اسکیموں کا کل تخمینہ 1.97 لاکھ کروڑ روپے ہے، جن کا مقصد بھارتی صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔
وزیر کے مطابق، منظور شدہ شعبوں میں الیکٹرانکس، دواسازی، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، خوراک کی پروسیسنگ، سولر ماڈیولز، اسپیشلٹی اسٹیل، طبی آلات، ٹیلی کام، اور ڈرونز شامل ہیں۔
جون تک، اسکیم کے تحت 1.90 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی جا چکی ہے۔
اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں اب تک 17 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی اضافی پیداوار اور فروخت ہوئی ہے، جبکہ برآمدات 7.5 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یہ اسکیم 12.3 لاکھ سے زائد براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کر چکی ہے۔
الیکٹرانکس اور دواسازی کے شعبے سب سے بڑے مستفید کنندگان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، موبائل فونز کی پیداوار کی مالیت میں 2020-21 سے 2024-25 تک 146 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ موبائل فونز کی برآمدات 22,870 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔
دوا سازی کے شعبے میں تین برسوں کے دوران 2.66 لاکھ کروڑ روپے کی کل فروخت ریکارڈ کی گئی، جس میں سے 1.70 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئیں۔
اس عرصے کے دوران بھارت بلک ڈرگز (خام ادویات) کا خالص درآمد کنندہ سے خالص برآمد کنندہ بن چکا ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ اسکیم کے تحت بروقت معاونت یقینی بنانے کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی، آن لائن درخواست کا نظام، سادہ تعمیلات، اور تیز تر ریگولیٹری منظوری جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ PLI اسکیم کا اثر وسیع پیمانے پر محسوس کیا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج پیداوار، برآمدات، اور روزگار کے شعبوں میں نمایاں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

