امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس، حماس اور غزہ میں موجود دیگر تمام مسلح گروپوں کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ معاہدہ غزہ میں بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو فلسطینی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بورڈ آف پیس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
اسرائیل کی سلامتی اور غزہ کے مستقبل کا منصوبہ
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو وہ سلامتی حاصل ہوگی جس کا وہ حقدار ہے، جبکہ غزہ کو آئندہ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کے لیے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جیسے ہی تمام مسلح گروپ اپنے ہتھیار ختم کر دیں گے، اسرائیلی فوج غزہ سے واپس چلی جائے گی اور ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
مصر، قطر اور ترکیے کی ثالثی، حماس کی خاموشی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مصر، قطر اور ترکیے نے ثالث کے طور پر اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالانکہ، اب تک حماس کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ تصاویر جاری کیں۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق دونوں لیڈران کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ، لبنان سے متعلق امور اور ابراہیمی معاہدوں کے دائرے کو وسعت دینے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال متوقع تھا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر بھی گفتگو متوقع
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے پک ایکس ماؤنٹن میں ایران کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات بھی پیش کرنے کی تیاری کی تھی۔ یہ ایک زیرِ زمین مقام ہے جسے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس بات پر برہم دکھائی دیے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی حکمت عملی کے بارے میں پہلے ہی عوامی اشارے دے دیے تھے۔
انہوں نے ایک امریکی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’میں نے بی بی نیتن یاہو کو یہ اعلان کرتے سنا تو میں نے کہا، آپ مجھے براہِ راست کیوں نہیں بتاتے؟ دنیا کے سامنے اس کا اعلان کرنے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ تہران کے ساتھ نئی سفارتی کوششوں کے حامی ہیں، جبکہ اسرائیل ایران پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر زور دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
