Bharat Express DD Free Dish

Italy Opposes US Proposal: آبنائے ہرمز پر امریکی ٹول ٹیکس کی تجویز کی اٹلی نے کی مخالفت، وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہہ دی بڑی بات

منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیج کے امیر ممالک کو اس نہایت اہم تزویراتی خطے کی سلامتی کے لیے امریکہ کو ادائیگی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ پہلے کی طرح مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کرتا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اتحادی ممالک کی سلامتی کے اخراجات برداشت کر رہا ہے۔

روم: اٹلی کی حکومت نے سمندری راستوں سے گزرنے پر کسی بھی قسم کا ٹول یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندری آبنائیں انسانوں کی بنائی ہوئی گزرگاہیں نہیں ہیں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کا یہ بیان منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے تمام مال بردار جہازوں پر 20 فیصد ٹول عائد کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم سمندری راستوں پر آزادانہ آمد و رفت کے حامی ہیں۔ جن آبناؤں میں انسانوں کی تعمیر کردہ کوئی نہر یا ساخت موجود نہیں، وہاں کسی بھی قسم کا ٹول عائد کرنے کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔‘‘

سویز اور پاناما کا حوالہ، آبنائے ہرمز مختلف

اٹلی کی خبر رساں ایجنسی ایڈن کرونوس کے مطابق، تاجانی کا یہ ردعمل صدر ٹرمپ کے پیر کے روز دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تمام مال بردار جہازوں سے 20 فیصد ٹول وصول کیا جائے گا۔

تاجانی نے کہا، ’’سویز یا پاناما کی مثال لیجیے، جہاں انسانوں کی بنائی ہوئی نہریں موجود ہیں، وہاں ٹول لینا مناسب ہے۔ لیکن قدرتی آبناؤں سے گزرنے پر فیس عائد کرنا ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا، کیونکہ اس کے بعد دنیا بھر میں ایسے ٹول نافذ کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی جیسے برآمدی ملک، جہاں برآمدات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 40 فیصد ہیں، کے لیے تجارتی گزرگاہوں پر ٹول کی ادائیگی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا بنیادی اصول سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت ہے اور ہم اسی اصول کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم قدرتی آبناؤں سے گزرنے پر کسی بھی قسم کی فیس یا ٹول کے خلاف ہیں۔‘‘

شپنگ تنظیم کی بھی تشویش

دنیا کی سب سے بڑی شپنگ تنظیم، بالٹک اینڈ انٹرنیشنل میری ٹائم کونسل (بیمکو) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یہ ٹول نافذ کرتا ہے تو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت مزید کم ہو سکتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین سمندری تجارتی اور تیل کی شپنگ کی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔ تنظیم کے مطابق حالیہ دنوں میں یہاں جہازوں کی نقل و حرکت ایک بار پھر تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیج کے امیر ممالک کو اس نہایت اہم تزویراتی خطے کی سلامتی کے لیے امریکہ کو ادائیگی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ پہلے کی طرح مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کرتا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اتحادی ممالک کی سلامتی کے اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جن ممالک کو امریکی فوجی کارروائیوں سے تحفظ حاصل ہو رہا ہے، انہیں بھی اس کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read