بین الاقوامی

Hamas releases first Gaza captives amid truce: غزہ میں عارضی جنگ بندی کا پہلا دن کامیاب،دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا آغاز

غزہ اسرائیل جنگ میں عارضی جنگ بندی کا پہلا دن کامیاب رہا ،چونکہ ناہی حملے ہوئے اور ناہی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق وعدہ خلافی،بلکہ دونوں فریق نے معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پہلے اقدام کو پورا کردیا ہے اور دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا پہلا گروپ دونوں فریق کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بین القوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی قید سے 24 یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حماس سے رہائی پانے والے یرغمالیوں کے اس گروپ میں 13 اسرائیلی، 10 تھائی لینڈ اور ایک فلپائن کا شہری شامل ہے۔

واضح رہے کہ قطر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے میں ثالثی کی ہے۔ قبل ازیں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ حماس نے 12 تھائی شہریوں کو رہا کر دیا ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں چار روزہ وقفے کے دوران یرغمالیوں کے تبادلے کا آغاز ہو گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں سے وہ مصر کی سرحد کے ذریعے جائیں گے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اب تک 25 قیدی رہا ہوئے ہیں جن میں سے 13 اسرائیلی قیدی اور 12 تھائی قیدی رہا کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ غزہ میں قید 12 تھائی ورکرز کو بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو بتایا کہ معاہدے کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید 39 فلسطینی خواتین اور بچے رہا کردیے گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے جمعے کو کہا کہ اسرائیلی افواج نے الشفا ہسپتال کو خالی کر دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا اسرائیلی افواج کے واپس جانے کے بعد ہسپتال میں موجود افراد ایک مخدوش عمارت میں ہیں جس کا ’مرکزی جنریٹر دیگر عمارتوں کے ساتھ ساتھ تباہ ہو چکا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گلانت نے جمعے کو کہا کہ حماس کے ساتھ سیزفائر معاہدہ ’عارضی وقفہ‘ ہے اور اس کے بعد اسرائیل اپنی پوری جنگی قوت سے حملے کرے گا۔

روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ الفاظ اپنے اطالوی ہم منصب سے گفتگو میں کہے جو اس وقت تل ابیب کے دورے پر ہیں۔ گلانت کے مطابق: ’ایک عارضی وقفہ ہوگا جس کے بعد ہم پوری جنگی قوت سے کام شروع کر دیں گے۔ ہم اپنے مقاصد کے حصول تک نہیں رکیں گے، جو کہ حماس کی تباہی ہے اور قیدیوں کو غزہ سے اسرائیل واپس لانا ہے ۔ 240 قیدی ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم اس کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

9 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

9 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

9 hours ago