عالمی پاپ سنسنیشن ایڈ شیرن
ممبئی: عالمی پاپ سنسنیشن ایڈ شیرن کو حال ہی میں بنگلورو پولیس کے ساتھ اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب پولیس نے ان کے اچانک منعقد کیے گئے اسٹریٹ پرفارمنس کو بیچ میں ہی روک دیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہیں پرفارمنس کے لیے پیشگی اجازت نہیں ملنے کی وجہ سے مداخلت کرنا پڑی۔
اس واقعے پر اب ایڈ شیرن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرفارمنس کے لیے ضروری اجازت تھی۔ انہوں نے اپنے انسٹاگرام اسٹوریز سیکشن میں لکھا، ’’ہمیں پرفارم کرنے کی اجازت تھی، اس لیے ہم اسی مقام پر پرفارم کر رہے تھے- یہ پہلے سے ہی پلان کیا گیا تھا۔ ہم یوں ہی اچانک وہاں نہیں پہنچ گئے۔ حالانکہ سب ٹھیک ہے۔ آج رات شو میں ملتے ہیں۔‘‘
ایڈ شیرن چرچ اسٹریٹ پر ایم جی روڈ میٹرو اسٹیشن کے سامنے پہنچے، جہاں پرفارم کرنے کے لیے دو مائیکروفون اور ایک گٹار رکھا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے مطابق، جیسے ہی سنگر نے اپنے مقبول ٹریک ’شیپ آف یو‘ کا ان پلگ ورژن پرفارم کرنا شروع کیا، ایک پولیس افسر آیا اور اسپیکر کا کنیکشن کاٹ دیا، جس کے باعث ان کا پرفارم کرنا بند ہو گیا۔
اگر رپورٹس پر یقین کیا جائے تو پولیس کو گلوکار کے خلاف عوامی پریشانی کی شکایت بھی موصول ہوئی تھی۔
ویڈیو کو آن لائن کافی پسند کیا گیا۔ ایک ریڈٹ صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’ہاہا، صرف بھارت میں ان لمحوں میں سے ایک۔‘‘ دوسرے نے شیئر کیا، یہ بہت شرمناک ہے۔‘‘
جہاں کچھ لوگوں نے گلوکار کو روکنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں دوسروں نے دلیل دی کہ وہ صرف اپنا کام کر رہا تھا۔
ایڈ شیرن 9 فروری کو بنگلورو کے نائس گراؤنڈز میں ایک کنسرٹ ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایڈ شیرن بنگلورو میں پرفارم کر رہے ہیں۔
بنگلورو کے بعد، شیرن 12 فروری کو شیلانگ کے جے این اسٹیڈیم میں پرفارم کریں گے۔ ان کا آخری پڑاؤ 15 فروری کو گروگرام کے لیزر ویلی گراؤنڈس پر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
