Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ یہ کارروائیاں روسی فوج کے کمزور حوصلے کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو گزشتہ 20 ماہ سے یوکرین کے ساتھ جنگ ​​میں مصروف ہے۔

اگر ہم آج یعنی 29 اکتوبر کی بات کریں تو  دہلی این سی آر میں ہوا بہت ہی زہریلی بنی ہوئی ہے ،اگرہم گریٹر نوئیڈا کی بات کریں تو وہاں ہوا کے معیار کا انڈیکس 365 ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی آج اتوار 29 اکتوبر کو صبح 11 بجے آل انڈیا ریڈیو پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ یہ ماہانہ ریڈیو پروگرام آکاشوانی، دور درشن اور اے آئی آر ایپ پر دستیاب ہوگا۔

دراصل کوئی بھی سبزی پیاز اور ٹماٹر کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ دہلی این سی آر میں پیاز کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیاز کی قیمت میں 10 سے 20 کلو روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔

مہوا موئترا نے کہا کہ انہوں نے اپنا پارلیمنٹ لاگ ان اور پاس ورڈ بزنس مین درشن ہیرانندنی کو دیا تھا کیونکہ اس بات کا کوئی اصول نہیں ہے کہ کون لاگ ان ہوسکتا ہے، کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی رکن اسمبلی خود سوال نہیں کرتا۔ لاگ ان اور پاس ورڈ ان کی ٹیم کے پاس رہتا ہے۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ ’’امریکہ دوسروں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے لیکن اس نے پوری طرح اسرائیل کا ساتھ دیا ہے، اگر امریکہ نے وہی کچھ جاری رکھا جو وہ اب تک کرتا آیا ہے تو اس کے خلاف نئے محاذ کھل جائیں گے۔

اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ دھمکیاں دینے والا کون ہے؟ دھمکی آمیز ای میل میں لکھا گیا کہ ’’اگر آپ ہمیں 20 کروڑ روپے نہیں دیں گے تو ہم آپ کو مار ڈالیں گے، ہمارے پاس ہندوستان میں بہترین شوٹر ہیں‘‘۔

ہندوستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات 26 اکتوبر کو کہا کہ وہ قطری عدالت کے فیصلے سے حیران ہے۔ اہل خانہ اور قانونی ٹیم سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ تمام قانونی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔ ہندوستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ قطر میں قید ہندوستانیوں کو سفارتی مشورہ فراہم کرتا رہے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے فوری طور پر اس کی مذمت کی اور اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات بھی کی تھی ۔لیکن انہوں نے حماس کا نام نہیں لیا۔

سدیش لہری اپنا گھر چلانے کے لئے  چائے کی دکان پر کام کرتے تھے ۔ ان کے گھر کی حالت اتنی خراب تھی کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے چائے بھی نہیں بن پاتی تھی