نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے نیم رانا ہوٹل فائرنگ کیس میں دہشت گرد ارش ڈلا سے وابستہ دو حملہ آوروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ گرفتار ملزمان پونیت اور نریندر للی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا، آرمز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت متعدد جرائم میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
دھمکیاں دینے میں ملوث تھے پنجاب کے شوٹرس
تحقیقاتی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، ’’پنجاب کے شوٹرس نیم رانا کے ہائی وے کنگ ہوٹل کے مالکان کو دھمکیاں دینے اور ان سے بھتہ خوری میں ملوث تھے۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ کینیڈا میں مقیم خالصتانی دہشت گرد ارش ڈلا بھارت میں کئی پرتشدد جرائم اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ شمولیت کے باعث مطلوب ہے۔
ہوٹل پر ٹیرر-گینگسٹر سنڈیکیٹ نے کیا تھا حملہ
ہوٹل پر یہ حملہ ستمبر 2024 میں خالصتان ٹائیگر فورس (کے ٹی ایف) کے دہشت گرد-گینگسٹر سنڈیکیٹ نے کیا تھا، جس کی قیادت خالصتانی دہشت گرد ارش دیپ سنگھ عرف ارش ڈلا اور بمبیا گینگ کر رہے تھے۔ گینگ کے ارکان دنیش گاندھی اور سوربھ کٹاریا کو اس حملے کا کلیدی سازشی قرار دیا گیا، جب کہ اس واردات کو بالآخر پونیت اور نریندر نامی دو دیگر افراد نے انجام دیا۔
جانچ میں پونیت اور نریندر کے کردار کا انکشاف
تحقیقات کے دوران این آئی اے افسران نے حملے میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال اور گینگ کی جانب سے دھمکیاں دینے میں پونیت اور نریندر کے کردار کا انکشاف کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں کو سنڈیکیٹ کی جانب سے مسلسل مالی مدد، پناہ اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا تھا۔
8 ستمبر 2024 کو راجستھان کے نیم رانا میں ہوٹل ہائی وے کنگ کے اطراف 30 سے زائد فائرنگ کی گئی تھی، جس کا مقصد بظاہر مقامی باشندوں اور سیاحوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور انہیں دھمکانا تھا۔ چند ماہ بعد یہ معاملہ این آئی اے کے سپرد کیا گیا۔ ایجنسی نے ملزمان اور مشتبہ افراد کے ٹھکانوں پر چھاپوں کے دوران کئی الیکٹرانک آلات اور قابلِ اعتراض مواد ضبط کیا۔
ایجنسی کے مطابق، ارش ڈلا کے ساتھی اور حامی ممنوعہ خالصتانی تنظیموں کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اس طرح کی بھتہ خوری کی کوششوں میں ملوث ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

