نئی دہلی، 24 نومبر۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے جسٹس سوریہ کانت کو ملک کے 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے طور پر حلف لینے پر مبارکباد پیش کی۔ پیر کے روز صدر دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ تقریب کے دوران جسٹس سوریہ کانت کو عہدے کا حلف دلایا، جس میں وزیراعظم مودی بھی موجود رہے۔
وزیراعظم مودی نے دی نیک خواہشات
تقریب کے بعد وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، ’’جسٹس سوریہ کانت کے چیف جسٹس آف انڈیا کے طور پر حلف برداری کی تقریب میں شامل ہوا۔ انہیں ان کے مستقبل کے مدت کار کے لیے نیک خواہشات۔”
قابل ذکر ہے کہ جسٹس سوریہ کانت نے ہندی زبان میں حلف لیا۔ وہ جسٹس بی آر گوئی کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ان کا بطور سی جے آئی تقریباً 14 ماہ کا دورانیہ ہوگا اور وہ 9 فروری 2027 تک اس عہدے پر رہیں گے۔
1984 میں شروع کی پریکٹس
10 فروری 1962 کو ہریانہ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے جسٹس سوریہ کانت نے 1981 میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج حصار سے گریجویشن کیا اور 1984 میں مہارشی دیانند یونیورسٹی، روہتک سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1984 میں حصار میں اپنی قانونی پریکٹس شروع کی اور اس کے بعد ہی چنڈی گڑھ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے کے لیے پنجاب چلے گئے۔
سالوں کے دوران، انہوں نے یونیورسٹیوں، بورڈز، کارپوریشنوں، بینکوں اور خود ہائی کورٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد آئینی، سروس اور سول معاملات کو سنبھالا۔ انہیں 7 جولائی 2000 کو ہریانہ کا سب سے کم عمر ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا اور مارچ 2001 میں انہیں سینئر ایڈوکیٹ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔
لیگل سروسز کمیٹی کے چیئرمین
انہوں نے 9 جنوری 2004 کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر اپنی ترقی تک ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مسلسل دو میعادوں (2007-2011) کے لئے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کے ممبر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف عدالتی اور قانونی خدمات کے اداروں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
جسٹس سوریہ کانت نے 5 اکتوبر 2018 سے 24 مئی 2019 تک ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔ نومبر 2024 سے وہ سپریم کورٹ کی قانونی خدمات کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، بہار ووٹر لسٹ میں ترمیم اور پیگاسس اسپائی ویئر کیس کے اہم فیصلوں کا حصہ رہے ہیں۔:
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

