علاقائی

India’s textile: مالی سال 2024-2025 کے اپریل تا اکتوبر میں ہندوستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات 7 فیصد سے بڑھ کر 21.36 بلین ڈالر تک پہنچی

ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی کل برآمدات بشمول دستکاری، مالی سال 2024-2025 کے اپریل تا اکتوبر کی مدت کے دوران 7 فیصد اضافے کے ساتھ 21.36 بلین ڈالر ہوگئی، جو کہ مالی سال 2023-2024 کی اسی مدت میں $20 بلین تھی۔

2022-2023 میں ہندوستان ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا عالمی سطح پر چھٹا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کا امکان ہے، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی عالمی تجارت میں اس کا حصہ 3.9فیصد ہے۔ ہندوستان کی کل برآمدات میں دستکاری سمیت ٹیکسٹائل اور ملبوسات (ٹی اینڈ اے) کا حصہ 2023-24 20میں قابل ذکر 8.21فیصد رہا۔ ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی درآمد مالی سال 2023-2024 میں 15 فیصد کم ہوکر $8.9 بلین ہوگئی ، جب کہ مالی سال 2022-2023 میں یہ 10.481 بلین ڈالر تھی۔

کاٹن ٹیکسٹائل کی درآمد میں اضافہ

کاٹن ٹیکسٹائل کی درآمد میں اضافہ ہوا ،جس کی بنیادی وجہ طویل سوتی فائبر کی درآمد ہے۔ ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے سرفہرست درآمد کنندگان میں امریکہ اور یورپی یونین ہیں، جو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی کل برآمدات کا تقریباً 47 فیصد حصہ ہیں۔ زیادہ تر درآمدات دوبارہ برآمد یا صنعت کی خام مال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات برآمد کنندہ

ہندوستان ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے اور اسے تجارتی سرپلس حاصل ہے۔ ہندوستان کے ریڈی میڈ گارمنٹس (آر ایم جی) کا کل برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ 41 فیصد یعنی 8.733 بلین ڈالر ہے، اس کے بعد کاٹن ٹیکسٹائل کا 33 فیصد یعنی 7.082 بلین ڈالر ہے۔ انسانی ساختہ ٹیکسٹائل کا حصہ 15 فیصد ہے، جو اپریل تا اکتوبر مالی سال 2024-2025 کے دوران 3.105 بلین ڈالر ہے۔ اون اور ہینڈلوم کے علاوہ تمام اشیاء میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں اون اور ہینڈلوم کی برآمدات میں بالترتیب 19فیصد اور 6فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی درآمد

کل درآمدات میں سے، ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات، بشمول دستکاری، مالی سال 2024-2025 کے اپریل سے اکتوبر کے دوران 5.425 بلین ڈالر تک گر گئی، جب کہ مالی سال 2023-2024 کی اسی مدت میں یہ 5.464 بلین ڈالر تھی۔ ڈالر 1859 ملین ڈالر کی درآمدات کے ساتھ انسانی ساختہ ٹیکسٹائل کے زمرے کا مالی سال 2024-2025 کے اپریل تا اکتوبر کی مدت کے دوران کل درآمدات ($5,425 ملین) میں سب سے بڑا حصہ (34فیصد) ہے، کیونکہ اس شعبے میں مانگ اور سپلائی میں فرق ہے۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP Politics: یونیفارم بدلی، رنگ بدلا، کیا بدلے گی قسمت؟ اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے آیا اکھلیش کا نیا روپ

اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…

5 minutes ago

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

1 hour ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

2 hours ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

2 hours ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago