قومی

Govt clears PLI incentive of Rs 246 cr: حکومت نے ایم اینڈ ایم، ٹاٹا موٹرز کے ذریعہ مانگے گئے 246 کروڑ روپے کے پی ایل آئی مراعات کو منظوری دی

بھاری صنعتوں کی وزارت نے آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے 25,938 کروڑ روپے کی پی ایل آئی اسکیم کے تحت مہندرا اور ٹاٹا موٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے 246 کروڑ روپے کے مراعاتی دعووں کو منظوری دے دی ہے۔بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے وزیر ایچ ڈی کمارسوامی نے پی ایل آئی اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعہ مقامی مینوفیکچرنگ کو حاصل کرنے کی طرف آٹو اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز (OEMs) کی طرف سے کی گئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے ٹاٹا موٹرز اور ایم اینڈ ایم کو بھی اس صلاحیت کو تیار کرنے پر مبارکباد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مزید درخواست دہندگان اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ٹاٹا موٹرز نے مالی سال 2023-24 میں طے شدہ فروخت کی بنیاد پر تقریباً 142.13 کروڑ روپے کا ترغیبی دعویٰ پیش کیا۔Tata Motors کی ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (AAT) مصنوعات کی اہل فروخت میں Tiago EVالیکٹرک فور وہیلرStarbus EV الیکٹرک بس اور Ace EVالیکٹرک کارگو وہیکل شامل ہیں، جن کی کل 1,380.24 کروڑ روپے ہے۔مہندرا اینڈٹاٹا نے 978.30 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ، مالی سال 2023-24 کے لیے مجموعی طور پر 800.59 کروڑ روپے کی AAT مصنوعات کی طے شدہ اضافی فروخت کی بنیاد پر 104.08 کروڑ روپے کا ترغیبی دعویٰ پیش کیا۔ان کے e3W ماڈلز کی اہل فروخت، بشمول Treo، Treo Zor، اور Zor Grand کی رقم 836.02 کروڑ روپے ہے، جسے آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (ARAI) کے ذریعہ جاری کردہ ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (DVA) کے سرٹیفکیٹ سے تعاون حاصل ہے۔

ایک اہلکار نے کہاکہ ان دو درخواست دہندگان کے کل دعوے تقریباً 246 کروڑ روپے ہیں، جن کی پراجیکٹ مینجمنٹ ایجنسی (PMA) کی طرف سے جانچ اور سفارش کی گئی ہے اور بعد میں بھاری صنعتوں کی وزارت (MHI) سے منظوری دی گئی ہے۔اس اسکیم کا مقصد AAT مصنوعات میں ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانا، لاگت سے متعلق معذوریوں کو دور کرنا، اور ایک مضبوط سپلائی چین قائم کرنا ہے۔15 ستمبر 2021 کو منظور شدہ، PLI اسکیم کو مالی سال 2023-24 سے مالی سال 2027-28 تک کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں مالی سال 2024-25 سے مالی سال 2028-29 تک مراعات کی تقسیم طے کی گئی ہے۔اس اسکیم کے تحت الیکٹرک گاڑیوں اور ہائیڈروجن فیول سیلز سے متعلق اجزاء کے لیے 13-18 فیصد کی ترغیبات دی جاتی ہیں، جبکہ دیگر AAT اجزاء کو 8 فیصد اور 13 فیصد کی مراعات ملتی ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ ستمبر، 2024 تک، اسکیم نے پہلے ہی 20,715 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں 10,472 کروڑ روپے کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔پہلی مراعات کی تقسیم 2024-25 میں متوقع ہے۔ اسکیم کی اہم خصوصیات میں گھریلو اور برآمدی فروخت دونوں کے لیے کم از کم 50 فیصد گھریلو ویلیو ایڈیشن اور اہلیت شامل ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

52 minutes ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

2 hours ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

2 hours ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

2 hours ago