کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس طرح سے تینوں ریاستوں میں کافی اچھی ووٹنگ ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں رائے دہندگان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔
اس سے قبل، دوپہرایک بجے کے اعدادوشمار کے مطابق، آسام میں 59.63 فیصد، کیرالہ میں 49.70 فیصد اور پڈوچیری میں 56.83 فیصد ووٹنگ ہوئی،صبح 11 بجے تک آسام میں 38.57 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریں اثنا، کیرالہ میں صبح 11 بجے تک 33.13 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پڈوچیری میں 36.90 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صبح 9 بجے تک ووٹنگ کے رجحانات کی بات کریں تو آسام میں تقریباً 18 فیصد، کیرالہ میں 16.23 فیصد، اور پڈوچیری میں 17.41 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کیرالہ، آسام اورپڈوچیری اسمبلی انتخابات میں کئی نئی پہل شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں پڈوچیری میں جاری ووٹنگ کے دوران ایک پولنگ مرکزپرروبوٹ “نیلا” لوگوں کی توجہ کا مرکزبن گیا ہے۔ ووٹنگ مرکزپرووٹرزکی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے، جہاں وی اوسی گورنمنٹ اسکول میں ووٹ ڈالنے آنے والے ووٹرزکا استقبال روبوٹ “نیلا” کررہا ہے۔ یہ ایک ایونٹ بیسڈ روبوٹ ہے، جسے شادیوں، سرکاری تقریبات اورانتخابات جیسے مختلف پروگراموں کے لیے بک کیا جاتا ہے۔ روبوٹ “نیلا” میں کئی جدید خصوصیات شامل ہیں، جن میں وائس فیچربھی موجود ہے، جس کی مدد سے یہ خود بات چیت بھی کرسکتا ہے اورووٹرزکوخوش آمدید کہتا ہے۔
آسام، کیرالہ اورمرکزکے زیرانتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ صبح 7 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اورشفاف اورپرامن انتخابات کویقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طورپر296 نشستوں پر1995 امیدوارمیدان میں ہیں، جہاں این ڈی اے، انڈیا اتحاد اورلیفٹ محاذ کی سیاسی طاقت کا امتحان ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ آج کرناٹک کی دونشستوں، ناگالینڈ کی ایک نشست اورتری پورہ کی ایک نشست پرضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ جبکہ گوا میں بھی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہونا تھا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ ہائی کورٹ نے وہاں ہونے والے ضمنی انتخاب پر روک لگا دی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق آسام کی 126 نشستوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے 31,940 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاست کے 35 اضلاع میں پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حساس پولنگ مراکز پر خصوصی نگرانی کے لیے مائیکرو آبزرورز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں جماعت اوراپوزیشن کے درمیان ہے اورلاکھوں ووٹرزپولنگ مراکزپر پہنچ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کررہے ہیں۔
دوسری جانب، کیرلا کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پرایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے، جہاں 883 امیدوارمیدان میں ہیں۔ ریاست کے تقریباً 2.71 کروڑ ووٹر آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کررہا ہے، جبکہ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی امید میں ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب پڈوچیری میں 9.50 لاکھ ووٹرز آج 294 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے کریں گے۔ تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کو شفاف اورپرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔