جھارگرام/کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے اور تمام بڑی جماعتیں انتخابی میدان میں اپنی پوری طاقت جھونک رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز جھارگرام میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں ”نہ پڑھائی ہے، نہ کمائی ہے اور نہ دوائی ہے“، اس لیے اب ٹی ایم سی کو جانا ہی ہوگا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی نے عوامی مسائل کو نظر انداز کیا ہے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار اور صحت جیسے اہم شعبوں میں بنگال کی حالت تشویشناک ہے، جس کی ذمہ دار موجودہ ریاستی حکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی اس تبدیلی کا واحد متبادل ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے خواتین ریزرویشن کے مسئلے کو بھی اٹھایا اور ٹی ایم سی پر اس کی مخالفت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو 2029 سے ریزرویشن کا فائدہ ملنا شروع ہو جائے گا، لیکن ٹی ایم سی نے پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس مخالفت کے پیچھے سیاسی مفادات کارفرما تھے اور اس کا مقصد بنگال کی خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خواتین کو اس کا جواب ووٹ کے ذریعے دینا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست میں پسماندہ طبقات کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مرکز کی جانب سے چلائی جانے والی اسکیموں کو ٹی ایم سی حکومت نے صحیح طریقے سے نافذ نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بیرہور، ٹوٹو اور لودھا جیسی انتہائی پسماندہ برادریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے شروع کی گئی “پی ایم جنمن یوجنا” کو ریاستی حکومت نے روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بی جے پی کی حکومت بنی تو ان طبقات کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
کسانوں کے حوالے سے بھی وزیر اعظم نے کئی بڑے وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت میں کسانوں کا استحصال ہو رہا ہے، خاص طور پر آلو اور دھان کے کسان مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بی جے پی حکومت بننے پر دھان کے لیے کم از کم امدادی قیمت 3100 روپے مقرر کی جائے گی اور کسان سمان ندھی کی رقم کو 6000 روپے سے بڑھا کر 9000 روپے کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے بجلی کے مسئلے پر بھی عوام کو لبھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دہلی میں عوام نے انہیں وزیر اعظم بنایا، اسی طرح بنگال میں بھی بی جے پی کی حکومت قائم کریں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ریاست میں نہ صرف بجلی کی وافر فراہمی ہوگی بلکہ عوام کو بجلی کے بل سے بھی راحت دی جائے گی۔ انہوں نے “پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کے تحت عوام کو سستی اور مفت بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ریلی کے دوران وزیر اعظم کے بیانات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ جہاں بی جے پی ان وعدوں اور الزامات کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے، وہیں ٹی ایم سی کی جانب سے ان بیانات کو سیاسی حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بنگال کی سیاست میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ فی الحال، تمام نظریں آنے والے انتخابات پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا بنگال کے عوام موجودہ حکومت پر اعتماد برقرار رکھتے ہیں یا پھر تبدیلی کے حق میں فیصلہ سناتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…