بیرک پور(مغربی بنگال): وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک مضبوط اور رہنما کردار ادا کیا تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے 21ویں صدی میں مغربی بنگال کی تعمیرِ نو اور ہمہ جہت ترقی کے لیے ایک منتر کے طور پر اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بنگال کو خوشحالی، ترقی اور امن کی نئی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بیرک پور میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا: ’’وندے ماترم غلامی سے آزادی کا منتر بنا تھا۔ اب 21ویں صدی میں ہمیں اسے بنگال کی تعمیرِ نو کا منتر بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنگال کی سرزمین تاریخی، ثقافتی اور روحانی اعتبار سے نہایت اہم رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس ریاست کی ترقی پورے ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
ترقی اور خوشحالی کے لیے روڈ میپ
وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں ریاست کے عوام کو ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا، نئی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، بی جے پی کی حکومت بنگال کو ایک مضبوط معاشی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں امن و امان کو یقینی بنائے گی اور ہر شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم درگا کی طاقت کو سکیورٹی اور انصاف کی ضمانت میں بدل دیں گے تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی سلامتی اور قانون کی حکمرانی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔
دراندازی پر سخت موقف، امتیاز کے خاتمے کا وعدہ
اپنی تقریر میں وزیراعظم مودی نے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ’’ہماری حکومت میں کسی بھی شہری کے ساتھ ذات یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا، لیکن غیر قانونی دراندازوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے متوا برادری کو شہریت دینے کے اپنے وعدے کو بھی دہرایا اور کہا کہ اس برادری کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
ترنمول کانگریس حکومت پر تنقید
وزیراعظم نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور لوگوں کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت ان مسائل کو ذہن میں رکھیں اور ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے قیام کے لیے بی جے پی کی حمایت کریں۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے مرحلے میں بڑھ چڑھ کر ووٹنگ میں حصہ لیں اور ریاست کے مستقبل کے لیے درست فیصلہ کریں۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو تقریباً 92.35 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو عوامی دلچسپی اور جوش و خروش کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس بار ریاست میں سخت مقابلہ متوقع ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ ایسے میں وزیرِ اعظم کی یہ ریلی انتخابی مہم کا ایک اہم مرحلہ سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…
الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…
بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…
اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…
روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…
روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…