شوپیاں، جموں و کشمیر: جموں و کشمیر انتظامیہ نے وادی میں سکیورٹی اور قانون و انتظام کی صورتحال کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ضلع شوپیاں کے امام صاحب علاقے میں واقع دینی تعلیمی ادارہ دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ کارروائی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) 1967 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں ادارے پر کالعدم تنظیموں سے روابط، مالی بے ضابطگیوں اور ادارے کے احاطے کے مبینہ غلط استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ یو اے پی اے کی دفعہ 8(1) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ اس سلسلے میں کشمیر کے ڈویژنل کمشنر انشول گرگ کی جانب سے ایک باضابطہ حکم جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی شوپیاں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی طرف سے 24 مارچ 2026 کو پیش کیے گئے ایک تفصیلی ڈوزیئر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ادارے کی سرگرمیوں پر کئی اعتراضات اور خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ دینی ادارہ مختلف قانونی، انتظامی اور مالی بے قاعدگیوں میں ملوث رہا ہے۔ ان میں زمین کے حصول میں ضابطوں کی خلاف ورزی، لازمی رجسٹریشن کی کمی اور حکومتی قوانین سے بچنے کی مبینہ کوششیں شامل ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے کی سرگرمیاں محض تعلیمی دائرے تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض دیگر مشتبہ سرگرمیوں سے بھی اس کا تعلق پایا گیا۔ حکم نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے اور خفیہ روابط رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کو بھارت سرکار نے سنہ 2019 میں پابندی عائد کرکے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ افراد ادارے کے انتظامی اور تدریسی امور میں شامل رہے اور ادارے کے کام کاج پر ان کا اثر و رسوخ پایا گیا۔ انتظامیہ نے ادارے کی مالی سرگرمیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کے استعمال میں شفافیت کی کمی، مشتبہ لین دین اور مالی وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ ادارے کے وسائل کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ مزید برآں، حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وقت کے ساتھ ادارے میں ایسا ماحول پروان چڑھا جو انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا تھا۔ بعض سابق طلبہ کے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات نے بھی قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو بڑھایا۔
انتظامیہ نے کارروائی سے قبل ادارے کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور اس کا جواب طلب کیا تھا۔ ادارے کے چیئرمین کی جانب سے جواب داخل کیا گیا، تاہم پولیس اور انتظامیہ نے اسے حقائق اور قانونی بنیادوں پر غیر تسلی بخش قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے اپنی بے گناہی کا دعویٰ قابل قبول نہیں پایا گیا اور دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ ان سرگرمیوں سے واقف تھا اور اپنے احاطے کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے میں ناکام رہا۔ اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ ادارے کے احاطے کو سیل کرے اور اس کے مالی اثاثوں کو منجمد کر دے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس ادارے میں اس وقت سیکڑوں طلبہ زیر تعلیم تھے، جن کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ انہیں ضلع کے سرکاری اسکولوں میں منتقل کرکے ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان اداروں کے خلاف وسیع مہم کا حصہ ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کے روابط کالعدم تنظیموں سے ہیں۔ وادی کشمیر میں اس سے قبل بھی متعدد اداروں کو منفی رپورٹس کی بنیاد پر بند کیا جا چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات خطے میں امن و امان برقرار رکھنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس کارروائی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر حکومت مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور علاقے کی شناخت اور وقار پر حملوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو غریب اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ یہ ادارہ ان طلبہ کے لیے معیاری تعلیم فراہم کرتا تھا جو مہنگے تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اس ادارے نے کئی قابل ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر ایسے فلاحی اداروں پر پابندی عائد کرنا تعصب اور بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایک طرف سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے جاتے ہیں، تو دوسری جانب ان کے سماجی اور تعلیمی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ سکیورٹی اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھے تاکہ طلبہ کا مستقبل متاثر نہ ہو اور خطے میں استحکام بھی قائم رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…