قومی

Military Conflict Cannot Resolve Problems- PM Modi: فوجی تصادم مسائل کا حل نہیں، پائیدار امن ہی واحد راستہ: وزیراعظم نریندر مودی

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں آسٹریا کے وفاقی چانسلر ڈاکٹر کرسچین اسٹوکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے یوکرین کا معاملہ ہو یا مغربی ایشیا کا، بھارت مستحکم، پائیدار اور دیرپا امن کا حامی ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ چانسلر اسٹوکر کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے اور وہ یورپ سے باہر اپنی پہلی غیر ملکی سفر کے لیے بھارت آئے ہیں، جو بھارت-آسٹریا تعلقات کے لیے نہایت اہم ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چار دہائیوں بعد آسٹریا کے چانسلر کا بھارت آنا ایک تاریخی موقع ہے۔ 2026 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے کے بعد تعلقات میں ایک نئے سنہرے باب کا آغاز ہوا ہے، اور یہ دورہ بھارت-آسٹریا تعلقات کو نئی سمت دے گا۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، جدت اور پائیداری کے شعبوں میں بھارت اور آسٹریا قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ دہلی میٹرو ہو یا اٹل ٹنل، آسٹریا کی سرنگ سازی کی مہارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریلوے منصوبوں سے لے کر گرنار روپ وے تک، صاف توانائی سے شہری ترقی تک، کئی بھارتی انجینئرنگ منصوبوں میں آسٹرین کمپنیاں فعال رہی ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چانسلر اسٹوکر کا یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی توانائی لائے گا۔ بھارت کی رفتار اور پیمانے کو جوڑ کر دنیا کے لیے قابل اعتماد ٹیکنالوجی اور سپلائی چین تیار کی جائے گی۔ دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایوٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھی تعاون بڑھائیں گے۔وزیراعظم مودی نے بتایا کہ آئی آئی ٹی دہلی اور مونٹان یونیورسٹی لیوبن کے درمیان دستخط ہونے والا مفاہمتی معاہدہ علمی تبادلے کی ایک اہم مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی صلاحیت آسٹریا کی جدت اور پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان مائیگریشن اور موبیلٹی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت اب نرسنگ سیکٹر میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ نوجوانوں کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے بھارت-آسٹریا ورکنگ ہالیڈے پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ دنیا اس وقت سنگین اور کشیدہ حالات سے گزر رہی ہے، اور ایسے ماحول میں بھارت اور آسٹریا اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ضروری ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم برقرار رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں ان کا آسٹریا کا دورہ بھی چار دہائیوں بعد ہوا تھا اور اب آسٹریا کے چانسلر کا بھارت آنا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

ببھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

10 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

11 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

12 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

13 hours ago