قومی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقریب میں فیتہ کاٹنے سے کیوں کیا انکار؟ اسے داد بھی مل رہی ہے۔سوشل میڈیا پر ہو رہی ہے تعریف

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ایک پروگرام میں گئے ہوئے تھے۔ وہاں فیتہ ترنگے کے رنگ کا تھا۔ جب ان کی نظرملک کے قومی پرچم پرپڑی توانہوں نے اسے کاٹنے سے منع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں کاٹ سکتے ہیں۔ 56 سال کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سری نگرکے کشمیرہاٹ میں ’’اپنے کاریگروں کوجانیں‘‘ ایونٹ کا افتتاح کررہے تھے۔ ویڈیومیں واضح طورپردکھائی دے رہا ہے کہ وزیراعلیٰ فیتہ کی طرف جاتے ہیں اور پھر قومی پرچم کے رنگوں کو دیکھ کر رک جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے وہاں سے کھول دیجئے۔ دونوں طرف سے کھول دیجئے۔ وزیراعلیٰ نے موقع پر پہنچتے ہی افسران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیسریا، سفید اور ہرے رنگ کی پٹیوں والے فیتے کو کھول دیجئے، اسے میں کاٹوں گا نہیں۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے ساتھ نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری، ان کے مشیرناصراسلم وانی اورکئی دیگرلوگ بھی موجود تھے۔ فیتہ کاٹنے کا کام پورا ہونے کے بعد، عمرعبداللہ شہرکے درمیان واقع کشمیرہاٹ میں باقی کی کارروائی کے لئے آگے بڑھے۔ اس قدم کے لئے انٹرنیٹ پرلوگوں نے ان کی جم کرتعریف کی۔ سوشل میڈیا ایکس پرایک یوزر(صارف) نے کہا، ”وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو ان کی گہری صلاحیت اورموجودہ سمجھ اورصحیح وقت پرکئے گئے سدھارکے لئے مبارکباد۔“ ایک دوسرے یوزر نے کہا کہ ”وزیراعلیٰ، میں آپ کے اس قدم کی سراہنا اوراحترام کرتا ہوں۔ ایک رول ماڈل بننے کے لئے آپ کا شکریہ۔ بھارت ماتا کی جے۔“

”حقیقی احترام ایسے ہی ہوتا ہے، ٹی وی بحث تک محدود نہیں“

نیشنل کانفرنس کے لیڈرگگن بھگت نے سوشل میڈیا ایکس پرکہا کہ ترنگے کے لئے اصلی احترام ایسا ہی نظرآتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حب الوطنی اکثرسستی ٹی وی بحثوں تک سمٹ کررہ جاتی ہے۔ ایسے میں کام الفاظ سے زیادہ زورسے بولتے ہیں۔ اس حادثہ نے کئی لوگوں کو حیران کردیا ہے اوراس پرائیویٹ تنظیم کی نگرانی پر بھی سوال کھڑے کردیئے، جواس پروگرام کا انعقاد کررہی تھی۔

ایک دوسرے یوزرنے سوشل میڈیا پرسوال پوچھا کہ کس نے سوچا تھا کہ ترنگے کوفیتے کے طورپراستعمال کرنا ایک بہترین خیال ہوگا؟ کیا ہمارے ملک کے لوگ س میں اتنے گھٹیا اورغیرحساس ہیں؟ بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنس) کے موقع پرریسرچ کررہی (پی ایچ ڈی) اسکالرمونیکا ورما نے کہا کہ عمرعبداللہ نے ترنگے کوفیتے کے طورپرنہ کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ کیا انہیں بلانے والے لوگوں نے اس بارے میں ٹھیک سے نہیں سوچا تھا؟

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

2 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

3 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

3 hours ago