قومی

Election Commission rejects Tejashwi Yadav’s claim: تیجسوی یادو کا ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے دعوے کو الیکشن کمیشن نےکیا خارج، آرجےڈی لیڈر نے چھیڑ دیا نیا محاذ

بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے درمیان آر جے ڈی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ووٹر لسٹ کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ ان کا نام فہرست میں موجود ہے۔ اس پر تیجسوی نے ای پی آئی سی نمبر میں تبدیلی کا الزام عائد کر دیا اور معاملے کو سازش قرار دیا۔

نام غائب،الیکشن کیسے لڑوں گا؟

پٹنہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تیجسوی نے ایس آئی آر پر سخت اعتراض جتایا اور کہا کہ یہ عمل ایک سازش کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کا ہی نام فہرست میں نہیں رہا تو عوام کا بھروسہ کیسے قائم رہے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے باقاعدہ فارم بھی بھرا تھا، اس کے باوجود نام غائب کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کی تردید

تیجسوی کے دعوے کے فوری بعد پٹنہ ضلع الیکشن آفیسر اور ضلع مجسٹریٹ تیاگ راجن ایم ایس نے وضاحت پیش کی کہ تیجسوی یادو کا نام پولنگ اسٹیشن نمبر 204، بہار اینیمل سائنس یونیورسٹی کی لائبریری کی عمارت میں سیریل نمبر 416 پر موجود ہے۔ ان کے مطابق پہلے تیجسوی کا نام پولنگ اسٹیشن نمبر 171 پر سیریل نمبر 481 پر درج تھا، جسے انتخابی عمل کے تحت نئے اسٹیشن میں منتقل کیا گیا۔

ای پی آئی سی نمبر کیوں بدلا گیا؟

الیکشن کمیشن کی وضاحت کے باوجود تیجسوی نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ان کا ووٹر آئی ڈی کارڈ نمبر (EPIC) بھی تبدیل کر دیا گیا ہےجو انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی ایک منظم چال کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرا نمبر بدلا جا سکتا ہے تو کتنےعام لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا؟ یہ تکنیکی خامی نہیں، ایک سیاسی سازش ہے۔

65 لاکھ نام حذف، شفافیت کا مطالبہ

تیجسوی نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا کہ ریاست بھر میں ہر اسمبلی حلقے سے 20 سے 30 ہزار نام حذف کیے گئے ہیں، جن کی تعداد تقریباً 65 لاکھ بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حذف شدہ ناموں کی فہرست میں نہ تو ووٹر کے پتے دیے گئے ہیں، نہ بوتھ نمبر اور نہ ہی ای پی آئی سی نمبر۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے دیانتداری سے کام کیا ہے تو بتائیے نام کیوں ہٹائے گئے؟

اعتراض اور سوالات

تیجسوی یادو نے اعتراضات داخل کرنے کی مدت میں توسیع اور بوتھ وائز تفصیل کے ساتھ حذف شدہ ووٹروں کی فہرست شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عارضی ہجرت کی بنیاد پر ووٹروں کے نام حذف کیے گئے تو کیا ان کا فزیکل ویریفکیشن کیا گیا؟ کیا ان ووٹروں کو کوئی نوٹس بھیجا گیا؟

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

9 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

10 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

11 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

12 hours ago