قومی

Deportation of Rohingya refugees: روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک بدری آئین اور انسانیت کے خلاف، سپریم کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل

نئی دہلی –  ہندوستان میں روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی نظربندیوں اور ملک بدری کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے پریس کلب آف انڈیا میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ماہر قانون، صحافی اور سماجی و انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔  اس دوران سماجی w حقوق انسانی پرکام کر رہے ماہرین نے  روہنگیا مسلمان پناہ گزیں پر بنی حکومتی پالیسی میں فوری تبدیلی اور دنیا کی سب سے زیادہ ستائی ہوئی برادریوں میں سے ایک روہنگیا پناہ گزیں کے لیے ہمدردی و  حسن سلوک سے پیش آنے کا مطالبہ کیا۔  ماہرین نے حکومت اور سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ ان کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 21 کے مطابق سلوک کریں جو ہر شخص کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔

“بریکنگ دی سائیلنس: جسٹس فار روہنگیا پناہ گزین”

حقوق انسانی کے کارکنوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حراست اور جلاوطنی کے دوران بھی قانون اور بین الاقوامی اصولوں پر مناسب عمل کے ساتھ عمل کیا جائے۔  “بریکنگ دی سائیلنس: جسٹس فار روہنگیا پناہ گزین” کے عنوان سے منعقدہ پریس کانفرنس میں سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن اور کولن گونسالویس، صحافی پامیلا فلیپوس، امن و حقوق انسانی کے معروف کارکن ڈاکٹر ہرش میندر، اور ساؤتھ ایشیا فورم فار ہیومن رائٹس (SAFHR) اور آزادی پروجیکٹ کے نمائندوں سمیت نمایاں شخصیات نے خطاب کیا۔

روہنگیائی شہری دنیا بھر میں شناخت کے خواہاں

ڈاکٹر ہرش مندر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے روہنگیائی شہری دنیا بھر میں شناخت کے خواہاں ہیں۔  ہمارے ملک میں ان کی آبادی بہت کم ہے – اقوام متحدہ کے مطابق 22,500 کے قریب ان کی بھارت میں کل آبادی ہے۔ با وجود اس کے ان کی دیکھ بھال کے لیے  آج سخت جدوجہد کرنا پڑ رہا ہے۔  روہنگیا بستیوں کی حالت غریب ترین ہندوستانیوں کی کچی آبادیوں سے بھی بدتر ہے، جہاں لوگ خوفناک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ اپنا گذر بسر کرنے کے لئے آج کچرا بیچ کر اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔ حالانکہ آج موجودہ حکومت انہیں قانونی اجازت دینے سے انکار کررہی ہے، بہت سے لوگوں کو جیلوں سے بھی بدتر حراستی مراکز ڈٹینشن سینٹرز میں رکھا گیا ہے۔ کیونکہ پڑوسی ممالک انہیں قبول کرنے سے انکار کررہےہیں۔ آج انہیں نسل کشی کا سامنا ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون ان پناہ گزینوں کو اس طرح بے دخلی سے سخت منع کرتا ہے، پھر بھی قانونی حیثیت اور انسانیت کو نظر انداز کرتے ہوئے پش بیک کا عمل جاری ہے۔ آج ہماری خاموشی ہمیں اس میں شریک کار  بنارہی ہے۔  ان کمزور 22,000 پناہ گزینوں کی مدد کرنا ہمارے  ملک کے غربت کے  انڈیکس کو ڈسٹرب نہیں کر سکتا ہے۔ بلکہ ہماری ہمدردی اور ذمہ داری کے احساس کو نمایاں کرتی ہے۔

پناہ گاہ کے طور پر ہندوستان کے تاریخی کردار کو نمایاں رکھا جائے

معروف وکیل اور سپریم کورٹ میں اس کیس کے پیروکارکولن گونسالویس نےایک تامل پناہ گزین کو لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس پر سخت تنقید کی، جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ “ہندوستان کوئی دھرم شالہ نہیں ہے”، جس نے اس بات کو چیلنج کیا تھا کہ وہ مظلوم کمیونٹیز – تبتی، سکھ، تامل اور روہنگیا کے لیے پناہ گاہ کے طور پر ہندوستان کے تاریخی کردار کو نمایاں رکھا جائے۔ جو انسانی حقوق اور ہمدردانہ پناہ کی ہندوستان کی قابل فخر روایت پر بحث کرتے ہوئے اسے آج کی مخالفانہ پالیسیوں سے متصادم قرار دیتاہے۔  وہ روہنگیا بشمول بچوں کو مشکل حالات میں ملک بدری کی مذمت کرتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہندوستان کا آرٹیکل 21 ہر کسی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ چاہے شہریت کچھ بھی ہو۔ ثبوت کی کمی کا حوالہ دے کر پناہ گزینوں کو مجرم قرار دینے والے سیاسی بیانیے کی سرزنش بھی کرتا ہے۔ وہ عدلیہ کی جانب سے انسانی حقوق جڑے مقدمات کو نظر انداز کرنے پر مایوسی کا مظہر نظر آتا ہے۔

کمزور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت سے پیش آیا جائے

پرشانت بھوشن نے سوالیہ انداز میں دریافت کرتے ہہوئے  کہاکہ کیا واسودھیوا کٹمبکم اور جمہوریت کا اعلان کرنے والے ملک میں انسانیت باقی ہے؟  میانمار میں نسل کشی کا سامنا کرنے کے باوجود آج ہندوستان میں روہنگیا کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے یا واپس دھکیل دیا جا رہا ہے، بعض اوقات سمندر میں بھی چھوڑ دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو  حکومت پناہ گزینوں کے کنونشن پر دستخط نہ کرنے کا حوالہ دیتی ہے، تاہم دیگر دستخط شدہ کنونشنوں کو نظر انداز بھی کر گذرتی ہے جیسے کہ تشدد کے خلاف اور بچوں کے حقوق نمایاں طور پردیکھا گیا ہے۔  پرشانت بھوشن نے آئین کے آرٹیکل 21 کو برقرار رکھنے میں ناکام رہنے پر حکومت اور عدلیہ دونوں پر تنقید کرتے ہیں اور سول سوسائٹی پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان کمزور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت کے ساتھ کام کریں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کو نظر انداز کرنے کا الزام

معروف صحافی پامیلا فلیپوس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے اسرائیل کو ریاستی اقدامات کو غیر انسانی عمل کے لیے ایک نمونہ قرار دیا۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے 2016 کے بعد سے روہنگیا کے ساتھ بھارت میں کئے گئے سلوک کا خاکہ بھی پیش کیا، جس میں ملک بدری، بائیو میٹرک ٹریکنگ، اور سیاسی بیان بازی جو ان پناہ گزینوں کو “دیمک” کے نام سے منسوب کیا  جاتا رہا ہے۔ انہوں نے  حکومت ہند پر اقوام متحدہ کے چارٹر کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج روہنگیا پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیجا جا رہا ہے۔

 شہریت ترمیمی قانون نے مسلم پناہ کے متلاشیوں کو اس ملک میں خارج کر دیا گیا ہے، جس سے یہ بحران مزید سنگین بن گیا ہے۔ حد  تو یہ ہے کہ بھارت نے  میانمار کی مذمت کرنے والی لائی گئی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھی پرہیز کیا اور مبینہ طور پرموجودہ میانمار حکومت کو اسلحہ بھی فراہم کیا۔ مقررین نے فوری عدالتی اور سول مداخلت کی متحدہو کر واضح دینے کی کوشش کی۔سبھی نے حکومت ہند کو روہنگیا پناہ گزینوں کے حقوق اور عزت کے تحفظ کے لیے اپنی انسانی اور آئینی ذمہ داریوں کو نبھانے پر خصوصی زور دیا ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Saayoni Ghosh Statement: ’’راہل گاندھی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے ساتھ جڑے کانگریس‘‘، سایونی گھوش کا مشورہ

این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…

36 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: نوجوانوں کو بڑا تحفہ، 20ویں روزگار میلے میں 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو پی ایم مودی دیں گے تقرری نامے

20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…

1 hour ago

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

3 hours ago