وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ’ماحولیات اور موسمیاتی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھارت کے کردار اور ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہم سب جانتے ہیں کہ اکثر کاربن اخراج کی ذمہ داری غلط طریقے سے ترقی پذیر ممالک پر ڈال دی جاتی رہی ہے۔ جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی فی کس کاربن اخراج کے معاملے میں بھارت کا حصہ عالمی اوسط کے نصف سے بھی کم ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھارت کے مقابلے فی کس کاربن اخراج تقریباً 6 گنا زیادہ ہے۔ بھارت عالمی فورمز پر مضبوطی کے ساتھ یہ حقائق پیش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس حقیقت کو دنیا کے سامنے رکھیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ، بین الاقوامی شمسی اتحاد، سی ڈی آر آئی، عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد، بین الاقوامی بڑی بلیوں کا اتحاد اور مشن لائف جیسے تمام پلیٹ فارم ماحولیات اور جنگلی حیات کے تئیں بھارت کی وابستگی کا آئینہ بن رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے میں بھارت نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ حکومت کی توجہ قابل تجدید توانائی پر مرکوز رہی ہے، جس نے ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جی-20 میں واحد ایسا ملک ہے، جس نے پیرس میں منعقدہ کوپ-21 سربراہی اجلاس میں کیے گئے وعدوں کو مقررہ وقت سے پہلے پورا کر دکھایا ہے۔ شمسی توانائی کے شعبے میں بھارت کی پیش رفت کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ 12 سال قبل بھارت کی شمسی توانائی کی صلاحیت محض 2 گیگاواٹ تھی، جو اب بڑھ کر 160 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت گھروں کو شمسی توانائی پیدا کرنے والے مراکز میں تبدیل کرنے کا مشن شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مشن کے تحت اب تک 50 لاکھ سے زائد گھروں کی چھتوں پر شمسی پینل نصب کیے جا چکے ہیں، جو کئی ممالک کے مجموعی گھروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت نے ایسے ہر خاندان کو تقریباً 80 ہزار روپے کی اضافی مالی مدد فراہم کی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…
20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…
امت شاہ صبح 11 بجے ہبلی میں کے ایل ای جے جی ایم ایم میڈیکل…
سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن…
موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…
پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے…