قومی

Saayoni Ghosh Statement: ’’راہل گاندھی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے ساتھ جڑے کانگریس‘‘، سایونی گھوش کا مشورہ

کولکتہ: نیشنل کانگریس پارٹی انڈیا (این سی پی آئی) کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی کو راہل گاندھی کی قیادت میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے حقیقی معنوں میں اتحاد کا پیغام جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سایونی گھوش نے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی گرفتاری پر کہا کہ کوئی بھی شخص الیکشن کمیشن یا عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

راہل گاندھی کی قیادت میں اتحاد کا مطالبہ

این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس، ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد کرے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے ایک بڑا پیغام جائے گا کہ یہ اتحاد حقیقی معنوں میں ایک اتحاد ہے، نہ کہ محض کہنے کی حد تک۔‘‘

نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی گرفتاری پر کیا کہا؟

نندی گرام ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار کی گرفتاری کے بارے میں سایونی گھوش نے کہا، ’’کانگریس کی جانب سے امیدوار بنائے گئے لیڈر کے بارے میں مجھے کل تک جو معلومات تھیں، ان کے مطابق ان کے خلاف کچھ مقدمات زیر التوا تھے۔ کوئی بھی الیکشن کمیشن یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ جمہوریت میں، چاہے کانگریس ہو، ترنمول کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی، ہر شخص اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔‘‘

کانگریس امیدوار کی حمایت پر ممتا بنرجی کے فیصلے کا دفاع

کانگریس امیدوار کی حمایت میں ممتا بنرجی کے موقف پر سایونی گھوش نے کہا، ’’یہ سیاست ہے اور سیاست میں انتخابات سے پہلے کیا فیصلے لیے جا سکتے ہیں اور کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں، یہ دونوں جماعتوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔‘‘ دوسری جانب، مغربی بنگال حکومت میں وزیر دلیپ گھوش نے ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کے امیدوار کی جانب سے نامزدگی واپس لیے جانے پر کہا، ’’بار بار ایسا کرنے سے انتخابات ختم ہو جائیں گے۔ وہ امیدوار بھی کھڑے نہیں کر پائیں گے اور نہ ہی انتخابات لڑ سکیں گے۔‘‘

کچھ لوگ اِدھر اُدھر جاتے رہتے ہیں، لیکن پارٹی ختم نہیں ہوتی

دلیپ گھوش نے مزید کہا، ’’دیکھیے، کوئی سیاسی جماعت کیوں بناتا ہے؟ اس لیے کہ وہ آگے بڑھے۔ کیا ہم انتخابات نہیں ہارتے؟ ہم ہر انتخاب میں ہر جگہ کامیاب نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ اِدھر اُدھر جاتے رہتے ہیں، لیکن کیا اس سے پارٹی ختم ہو جاتی ہے؟ ایسا صرف کانگریس اور اس کی سیاسی ثقافت سے نکلی جماعتوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: نوجوانوں کو بڑا تحفہ، 20ویں روزگار میلے میں 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو پی ایم مودی دیں گے تقرری نامے

20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…

1 hour ago

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

3 hours ago