قومی

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

نئی دہلی : بھارتی معیشت کے حوالے سے دنیا بھر سے ایک حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے مالی سال 2026-2027 کے لیے بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باوجود بھارتی معیشت نے مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت دنیا کے دیگر جی 20 ممالک کے مقابلے میں تیز رفتار سے ترقی کرنے والی معیشت بنا رہے گا۔

شرح نمو کا اندازہ 7 فیصد تک کیوں بڑھایا گیا؟

موڈیز کے مطابق اس اضافے کے پیچھے کئی مضبوط عوامل کارفرما ہیں۔ ایجنسی نے خاص طور پر تین اہم پہلوؤں کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔مضبوط گھریلو طلب اور سرمایہ کاری: ملک میں لوگوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ نجی شعبے کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے مثبت اشارے بھی ملنے لگے ہیں۔بہتر سہ ماہی اعداد و شمار: اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی کے دوران بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر یہ شرح 8.2 فیصد درج کی گئی تھی۔ 2025 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی تھی۔سرکاری اخراجات اور خدمات کا شعبہ: بنیادی ڈھانچے پر حکومت کی مسلسل سرمایہ کاری، خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی اور مینوفیکچرنگ میں تیزی نے بھارتی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے میں مدد دی ہے۔

آئی ایم ایف اور آر بی آئی کے اندازے سے آگے

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ پرامید ہے۔ عالمی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر جہاں دیگر اداروں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے، وہیں موڈیز نے بھارت کی داخلی معاشی صلاحیتوں پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔ایجنسی نے بھارت کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’Baa3‘ اور اس کے آؤٹ لک کو ’مستحکم‘ برقرار رکھا ہے۔

بڑے چیلنجز اور خطرات کیا ہیں؟

شرح نمو کا اندازہ بڑھانے کے باوجود موڈیز نے کچھ اہم خطرات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع طویل ہوتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نقل و حمل اور پیداواری لاگت متاثر ہوگی۔تیل مہنگا ہونے کی صورت میں مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح موڈیز کے 4.8 فیصد کے اندازے سے بھی اوپر جا سکتی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ 2.4 فیصد رہی تھی۔ موسم سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باعث غذائی اشیا، خاص طور پر سبزیوں اور اناج کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عام لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی صورت میں حکومت کو سبسڈی میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے مالی خسارے کو تیزی سے کم کرنے کے ہدف پر اثر پڑ سکتا ہے۔تاہم، ان چیلنجز کے باوجود بھارت کے پاس مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے متنوع ذرائع موجود ہیں، جو عالمی سطح پر آنے والے معاشی جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

MC Chagla Memorial Lecture: ترقی کو انسانی حقوق اور وقار سے الگ نہیں کیا جا سکتا- سابق چیف جسٹس بی آر گوائی

سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن…

31 minutes ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

2 hours ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

2 hours ago

Delhi – NCR Weather Today: دہلی -این سی آرمیں پر چھائے رہیں گے بادل، ہلکی بارش کے امکانات، حبس کرے گا پریشان

محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…

3 hours ago

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

12 hours ago