نئی دہلی : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 18 ستمبر کو لِنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026 پر دستخط کرکے اسے قانون کی شکل دے دی۔ امریکی ایوانِ نمائندگان سے بل منظور ہونے کے دو دن بعد ٹرمپ نے اس پر دستخط کیے۔ نئے قانون کے تحت صدر کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے 5 بڑے ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ تاہم قانون خود بخود بھارت پر 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کرتا بلکہ صدر کو ایسا کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
تقریباً 18 ماہ سے جاری سیاسی عمل ختم
ٹرمپ کے قانون پر دستخط کے ساتھ روس پر نئی پابندیوں سے متعلق تقریباً 18 ماہ سے جاری سیاسی عمل اختتام پذیر ہوگیا۔ اس کی شروعات اپریل 2025 میں ہوئی تھی، جب سینیٹر لِنڈسی گراہم اور رچرڈ بلومینتھل نے موجودہ بل کا ایک مسودہ امریکی سینیٹ میں پیش کیا تھا۔اس قانون کا بنیادی مقصد روس کی توانائی سے ہونے والی برآمدی آمدنی کو کمزور کرنا اور 4 سال سے زیادہ عرصے سے جاری یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو پر مذاکرات کا دباؤ بڑھانا ہے۔
قانون میں کسی مخصوص ملک کا نام نہیں
قانون میں کسی مخصوص ملک کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت امریکی تجارتی نمائندے کو وزیر خارجہ اور وزیر توانائی سے مشاورت کے بعد ان 5 ممالک کی شناخت کرنی ہوگی جو گزشتہ 12 ماہ کے دوران مجموعی مقدار کے اعتبار سے روس سے سب سے زیادہ خام تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔ان ممالک کی فہرست ہر 180 دن میں دوبارہ مرتب کی جائے گی۔ ٹیرف کی شرح صدر کی صوابدید پر منحصر ہوگی اور زیادہ سے زیادہ 100 فیصد تک ہوسکتی ہے۔ تاہم قانون صدر کو روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا پابند نہیں کرتا۔
چین اوربھارت پر بلومینتھل کا دباؤ
قانون کے حامیوں، خاص طور پر سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے چین اور بھارت سے روس سے توانائی کی خریداری بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایوانِ نمائندگان سے بل منظور ہونے کے بعد بدھ کو بلومینتھل نے چین اور بھارت سے روسی تیل و گیس کی خریداری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔بھارت اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اسی لیے نئے قانون میں صدر کو دونوں ممالک سمیت دیگر بڑے خریداروں پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوا ہے۔
یورپی ممالک کے لیے چھوٹ کا بھی انتظام
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسے ممالک کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جن کی روس سے قدرتی گیس کی درآمد، روس کی مجموعی گیس برآمدات کے 15 فیصد سے کم ہو اور جو ان درآمدات کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں۔
قومی مفاد میں صدر دے سکتے ہیں چھوٹ
نئے قانون کے تحت امریکی صدر کو کسی ملک پر عائد کیے گئے ٹیرف سے اسے مستثنیٰ قرار دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ اس کے لیے صدر کو کانگریس کو یہ تصدیق کرنی ہوگی کہ استثنیٰ امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔تاہم ٹیرف کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے صدر کو یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ متعلقہ ملک نے روس سے توانائی کی خریداری بند کردی ہے اور اس نے قابلِ اعتماد یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں دوبارہ روس سے توانائی خریدنا شروع نہیں کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…