قومی

MC Chagla Memorial Lecture: ترقی کو انسانی حقوق اور وقار سے الگ نہیں کیا جا سکتا، ایم سی چاگلہ میموریل لیکچر سے سابق چیف جسٹس بی آر گوئی کا خطاب

نئی دہلی :سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے جمعہ کو کہا کہ انسانی حقوق کو سماجی اور معاشی ترقی کے سوالات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس گوائی نے بنیادی آزادیوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے درمیان گہرے تعلق کا جائزہ پیش کیا۔

سیاسی آزادی کے ساتھ بنیادی سہولتیں بھی ضروری

سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن جب وہ خوراک، تعلیم، صحت کی سہولت، روزگار یا باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری بنیادی حالات سے محروم ہو تو اس آزادی کی حقیقی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے حقوق محض نظری تصورات بن کر نہیں رہ سکتے۔‘‘وہ نویں چیف جسٹس ایم سی چاگلہ میموریل لیکچر سے خطاب کر رہے تھے۔جسٹس گوئی نے زور دیا کہ صرف معاشی ترقی کو انسانی ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے سوال اٹھایا، ’’جب ہم ترقی کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ترقی کس کے لیے ہے، کس مقصد کے لیے ہے اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟‘‘

ماحولیات اور پائیدار ترقی میں توازن

جسٹس گوئی نے سپریم کورٹ کی گرین بینچ کی سربراہی کے اپنے تجربے کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے عدالتی فیصلوں کو ماحولیات اور ایک جانب ماحولیاتی تحفظ جب کہ دوسری جانب پائیدار ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک مشکل کوشش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدلیہ نے جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں کے قریب ماحولیات کے حوالے سے حساس زون قائم کرکے ماحولیاتی تحفظ اور مقامی برادریوں کی روزی روٹی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح ماتھیران میں انسانوں کے ذریعے کھینچے جانے والے رکشوں کو مرحلہ وار ختم کرکے ان کی جگہ بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو متعارف کرانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کے وقار کا تحفظ بھی تھا۔

معاشی ترقی کا مقصد انسانی وقار ہونا چاہیے

سابق چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی ایسی ہونی چاہیے جو انسانی وقار کے تحفظ اور بہتری میں معاون ثابت ہو۔انہوں نے کہا، ’’ماحولیاتی تحفظ کو نسل در نسل زندگی کے لیے ضروری حالات کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ہم قدرتی وسائل کو آنے والی نسلوں کے لیے امانت کے طور پر اپنے پاس رکھتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ان فیصلوں میں حصہ لینے کا موقع دیں اور جب ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو تو انہیں قانونی چارہ جوئی کا راستہ فراہم کریں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

2 hours ago

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

3 hours ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

3 hours ago

Delhi – NCR Weather Today: دہلی -این سی آرمیں پر چھائے رہیں گے بادل، ہلکی بارش کے امکانات، حبس کرے گا پریشان

محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…

4 hours ago