نئی دہلی: وینزویلا کے خلاف امریکہ کی کارروائی کو لے کر دنیا واضح طور پر دو خیموں میں بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف کئی ممالک ایسے ہیں جو امریکہ کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو کھل کر اس کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سے ممالک امریکہ کے حق میں ہیں اور کون اس کے خلاف۔
روس، چین، ایران، کیوبا، برازیل، میکسیکو، کولمبیا، چلی، بیلاروس، یوراگوئے، سلوواکیہ، جنوبی افریقہ، ملیشیا، سری لنکا، شمالی کوریا، گھانا اور سنگاپور سمیت کئی ممالک نے امریکہ کی کارروائی پر تنقید کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ کے اندر بھی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف ارجنٹینا، اسرائیل، پیرو، ایل سلواڈور، ایکواڈور، البانیہ، فرانس اور برطانیہ نے وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کی کھل کر حمایت کی ہے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کریں۔
وینزویلا میں حالیہ واقعات گہری تشویش کا باعث
بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا، ’’وینزویلا میں حالیہ واقعات گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ہم بدلتی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہم تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے پرامن حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے۔ کاراکاس میں بھارتی سفارت خانہ بھارتی برادری سے مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا۔‘‘
میلونی کو مادورو کی انتخابی جیت نہیں تھی قبول
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا، ’’میں وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شروع ہی سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ اٹلی نے اپنے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مادورو کی جانب سے خود اعلان کردہ انتخابی جیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کی اور ہمیشہ وینزویلا کی عوام کی جمہوری تبدیلی کی امیدوں کی حمایت کی ہے۔‘‘
اطالوی برادری کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح
انہوں نے مزید کہا، ’’اٹلی کی پرانی پالیسی کے مطابق، حکومت کا ماننا ہے کہ آمرانہ نظام کے خاتمے کے لیے بیرونی فوجی کارروائی درست راستہ نہیں ہے۔ حالانکہ، حکومت اپنی سلامتی کے خلاف ہائبرڈ حملوں کی صورت میں دفاعی مداخلت کو جائز سمجھتی ہے، جیسا کہ ان سرکاری اداروں کے معاملات میں ہوتا ہے جو منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دیتے ہیں یا اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ہم وینزویلا میں مقیم اطالوی برادری کی صورتحال پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، کیونکہ ان کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘‘
البانیز کی ڈائلاگ کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی دونوں فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’آسٹریلیائی حکومت وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کا سہارا لیں۔ آسٹریلیا کو طویل عرصے سے وینزویلا کی صورتحال پر تشویش رہی ہے، جس میں جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی ضرورت بھی شامل ہے۔‘‘
وینزویلا میں پرامن اور جمہوری تبدیلی کی حمایت
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا بین الاقوامی قانون اور وینزویلا میں پرامن اور جمہوری تبدیلی کی حمایت کرتا رہے گا، جو وہاں کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہو۔ وینزویلا میں موجود آسٹریلیائی شہریوں کو اگر کسی قسم کی مدد درکار ہو تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے سے +61262613305 یا آسٹریلیا کے اندر سے 1300555135 پر 24 گھنٹے دستیاب ایمرجنسی قونصلر امدادی ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…