ملیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم۔
نئی دہلی: وینزویلا کے خلاف امریکہ کی کارروائی پر ملیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جس انداز اور دائرۂ کار میں یہ کارروائی کی، وہ نہایت مختلف اور تشویشناک ہے۔ ملیشیائی وزیرِ اعظم نے ایک خودمختار ملک کے خلاف طاقت کے غیرقانونی استعمال کا الزام بھی امریکہ پر عائد کیا۔
ابراہیم کو وینزویلا کے واقعات پر گہری تشویش
وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا، ’’میں وینزویلا میں ہونے والے واقعات کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکہ کی ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا، جس کا طریقہ اور دائرہ کار انتہائی غیرمعمولی تھا۔ اس قسم کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور ایک خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کا غیرقانونی استعمال ہیں۔‘‘
مادورو اور ان کی اہلیہ کو بلا تاخیر رہا کرنا چاہیے
انہوں نے مزید کہا، ’’صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بغیر کسی غیرضروری تاخیر کے رہا کیا جانا چاہیے۔ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، کسی موجودہ حکومت کے سربراہ کو بیرونی مداخلت کے ذریعے زبردستی ہٹانا ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ یہ ممالک کے درمیان طاقت کے استعمال پر عائد بنیادی پابندی کو کمزور کرتا ہے اور اس قانونی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتا ہے جو عالمی نظام کو مستحکم بناتا ہے۔‘‘
عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے
ملیشیائی وزیرِ اعظم نے کہا، ’’وینزویلا کی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ جیسا کہ تاریخ گواہ ہے، بیرونی طاقتوں کی وجہ سے قیادت میں اچانک تبدیلی اکثر فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بنتی ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جو پہلے ہی طویل عرصے سے معاشی بحران اور گہرے سماجی تناؤ کا شکار ہو۔‘‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملیشیا ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کے لیے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے احترام کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق، تعمیری روابط، مکالمہ اور کشیدگی میں کمی ہی وہ قابلِ اعتماد راستہ ہے جو عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنا سکتا ہے اور وینزویلا کے عوام کو مزید نقصان کے بغیر اپنی جائز امیدیں پوری کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
دوسری جانب، برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’برطانیہ طویل عرصے سے وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ہم مادورو کو ایک ناجائز صدر سمجھتے تھے اور ان کے اقتدار کے خاتمے پر ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے۔ میں نے آج صبح بین الاقوامی قانون کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ برطانوی حکومت آنے والے دنوں میں امریکہ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بدلتی صورتحال پر بات چیت کرے گی، کیونکہ ہم ایک محفوظ اور پرامن طریقے سے ایسی جائز حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں جو وینزویلا کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرے۔‘‘
بھارت ایکسپریس
مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…
الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…
بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…
اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…
روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…
روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…