کئی بار ملتوی ہونے کے بعد کنگنا رناوت کی فلم ‘ایمرجنسی’ 17 جنوری کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں کنگنا رناوت کے ساتھ انوپم کھیر اور شریاس تلپڑے جیسے اداکار نظر آئے ہیں۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ پنجاب میں اس فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس پر کنگنا رناوت کا کہنا تھا کہ یہ فن اور فنکاروں کے ساتھ ظلم ہے۔
حال ہی میں شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) نے پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کو ایک خط لکھ کر فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ پنجاب کی بھولتھ اسمبلی سیٹ سے کانگریس ایم ایل اے سکھ پال سنگھ کھیرا نے بھی ایس جی پی سی کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ کنگنا رناوت نے سکھ پال سنگھ کھیرا کے ٹویٹ کا جواب دیا ہے۔
کنگنا رناوت نے جواب میں کیا کہا؟
کنگنا نے X پر لکھا، “یہ آرٹ اور فنکاروں پر ظلم ہے۔ پنجاب کے کئی شہروں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ یہ لوگ ‘ایمرجنسی’ کو تھیٹروں میں دکھانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ میں تمام مذاہب کا احترام کرتی ہوں۔ چندی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے اور بڑے ہونے کے بعد، میں نے سکھ مذہب کو قریب سے دیکھا اور اس کی پیروی کی۔
ایس جی پی جی سی نے فلم پر سکھوں کی شبیہ کو خراب کرنے اور تاریخ کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پر کنگنا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر جھوٹا اور میری امیج کو خراب کرنے اور فلم کو نقصان پہنچانے کا پروپیگنڈا ہے۔
کنگنا رناوت کی ‘ایمرجنسی’ اس فلم سے ٹکراتی ہے
‘ایمرجنسی’ میں مرکزی کردار میں نظر آنے کے علاوہ کنگنا رناوت نے اس فلم کو بھی ڈائریکٹ کیا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر فلم ‘آزاد’ سے ٹکراؤ کر رہی ہے۔ ابھیشیک کپور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں روینہ ٹنڈن کی بیٹی راشا ٹھاڈانی اور اجے دیوگن کے بھتیجے امان دیوگن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس فلم میں اجے دیوگن بھی نظر آئیں گے۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…