وزیر اعظم نریندر مودی۔
دنیا بھر میں آلودگی کم کرنے اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں بھارت نے بھی ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی پہلی دیسی ہائیڈروجن ٹرین کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہریانہ کے جِند سے سونی پت کے درمیان چلنے والی اس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جسے بھارتی ریلوے کی جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کن ممالک میں پہلے سے چل رہی ہیں ہائیڈروجن ٹرینیں؟
ہائیڈروجن ٹرین اب محض ایک تصور نہیں بلکہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں حقیقت بن چکی ہے۔ جرمنی نے 2018 میں دنیا کی پہلی کمرشل ہائیڈروجن ٹرین شروع کی تھی اور 2022 میں مکمل ہائیڈروجن ریل روٹ بھی متعارف کرایا۔ اس کے بعد چین نے ایشیا کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرین لانچ کی، جبکہ فرانس، اٹلی، جاپان اور برطانیہ بھی اس ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہے ہیں اور مختلف روٹس پر اس کے کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں۔ اب بھارت بھی اس جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔
ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
اس ٹرین کی بنیاد ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی پر ہے، جسے ایک چلتے پھرتے پاور پلانٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ٹرین کے اوپر نصب مضبوط سلنڈروں میں کمپریسڈ ہائیڈروجن گیس محفوظ کی جاتی ہے۔ جب ٹرین چلائی جاتی ہے تو یہ گیس فیول سیل میں داخل ہوتی ہے، جہاں فضا سے حاصل ہونے والی آکسیجن کے ساتھ اس کا کیمیائی عمل ہوتا ہے۔ اس الیکٹرو کیمیکل ردعمل کے نتیجے میں بجلی پیدا ہوتی ہے، جو براہ راست ٹرین کی الیکٹرک موٹروں کو فراہم کی جاتی ہے اور وہ پہیوں کو حرکت دیتی ہیں۔
زہریلا دھواں کیوں نہیں نکلتا؟
ہائیڈروجن فیول سیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ڈیزل، پٹرول یا کوئلہ نہیں جلایا جاتا۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے کیمیائی عمل کے دوران صرف بجلی، پانی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے اس ٹرین سے زہریلا دھواں خارج نہیں ہوتا بلکہ صرف پانی کی بھاپ نکلتی ہے، جو ماحول کو آلودہ نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن ٹرین کو مستقبل کی ماحول دوست ریل ٹرانسپورٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…