Categories: Uncategorized

محمد دیپک کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، مسلم دکاندار کی حمایت کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر، کارروائی پر عدالت نے لگائی روک، جانئے پوری تفصیل

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہرہ دون کے جم مالک محمد دیپک کمارکے خلاف درج ایف آئی آرسے متعلق کارروائی پرعبوری روک لگا دی ہے۔ دیپک نے بجرنگ دل کے ارکان اورایک مسلم دکاندارکے درمیان ہوئے تنازعہ سے متعلق اپنے خلاف درج ایف آئی آرکومنسوخ کرنے کی درخواست دائرکی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اورجسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے پیرکودیپک کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کونوٹس جاری کیا اورایف آئی آرسے متعلق کارروائی پرعبوری روک لگا دی۔ عدالت نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حکم پربھی روک لگا دی ہے، جس کے تحت دیپک کوواقعہ اورمعاملے سے متعلق سوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے سے روکا گیا تھا۔ دیپک نے ایف آئی آرمنسوخ کرنے سے ہائی کورٹ کے انکارکوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سوشل میڈیا پروائرل ہوا تھا ویڈیو

دیپک کی جانب سے پیش ہوئے سینئروکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے عدالت کوبتایا کہ ان کے موکل نے اس وقت اعتراض کیا تھا، جب بجرنگ دل کے اراکین نے ایک مسلم دکاندارکی جانب سے اپنی دکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ استعمال کرنے پراعتراض کیا تھا۔ سنگھوی کے مطابق، جب بھیڑنے دیپک سے ان کا نام پوچھا توانہوں نے اپنا نام محمد دیپک بتایا۔ یہ واقعہ یوم جمہوریہ کے موقع پرپیش آیا تھا، جس کا ویڈیوبعد میں سوشل میڈیا پروائرل ہوگیا۔

مسلم دکاندار کی مدد کے لیے گئے تھے دیپک

سینئروکیل نے عدالت میں کہا کہ واقعہ کے بعد دیپک مسلم دکاندارکی مدد کے لیے وہاں گئے تھے۔ انہوں نے خود بھی واقعہ سے متعلق شکایات درج کرائی تھیں، لیکن ان شکایات پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ ان کے خلاف ایف آئی آردرج کردی گئی۔ ابھیشیک منوسنگھوی نے سوال اٹھایا کہ ایک عام شہری کواس طرح کی شکایت کا سامنا کیوں کرنا پڑے؟ انہوں نے ویڈیو سمیت دیگرشواہد کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم کی بنیاد پربھی سوالات اٹھائے۔

دفعہ 191 بی این ایس بعد میں ہٹا دی گئی

ابھیشیک منوسنگھوی نے بتایا کہ دیپک پرابتدا میں بی این ایس کی دفعہ 191 کے تحت فساد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا، کیونکہ اس دفعہ کے اطلاق کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ دیپک کے خلاف عائد جرائم میں 7 سال سے کم کی سزا کی گنجائش ہے، اس لیے سپریم کورٹ کی جانب سے ارنیش کمارمعاملے میں دی گئی ہدایات بھی لاگوہوتی ہیں۔ ابھیشیک منوسنگھوی نے ہائی کورٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے پرعائد پابندی کو’’مکمل پابندی‘‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ راحت دینے کے بجائے درخواست گزارکو اظہارِرائے سے ہی روک دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان دلائل پرغورکرنے کے بعد فی الحال دیپک کے خلاف درج ایف آئی آرسے متعلق کارروائی پرعبوری روک لگا دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

23 seconds ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

14 minutes ago

PM Modi Chennai Visit: آئی آئی ٹی مدراس میں وزیر اعظم مودی کا منفرد انداز، برین ریسرچ سینٹر اور موسیقی مرکز کا کیا ہوگا اثر؟

وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو ایک روزہ دورے پر تمل ناڈو کے شہر چنئی…

58 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: طاقت، ضبط اور خدمت کا پیغام دیتی ہے، امت شاہ نے شاردیہ نوراتری پر ملک کے تمام شہریوں کو پیش کی دلی مبارک باد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پرایک خصوصی ویڈیو گرافک شیئر…

59 minutes ago