Categories: Uncategorized

Karnataka High Court: جرائم روکنے کے لیے مسلم ممالک جیسی سخت سزاؤں کی وکالت، ہائی کورٹ نے کہا- ہاتھ یا پیر کاٹنے جیسی سزا ہو تو قانون کا خوف بڑھے

نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ نے بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے قانون کا خوف کمزور پڑ گیا ہے۔ عدالت نے مشرق وسطیٰ ( مسلم ممالک)کے بعض ممالک میں دی جانے والی سخت سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون پر مؤثر عمل درآمد ہو اور مجرموں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے تو جرائم میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں 23 سالہ ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں سزا کا خوف پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا، جس کی وجہ سے بعض لوگ قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس آر نٹراج نے کہا کہ “قانون اپنی طاقت کھو رہا ہے کیونکہ ہم مجرموں کے ساتھ مطلوبہ سختی سے پیش نہیں آتے۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مقابلے میں یہاں جرم کرنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہاتھ یا پیر کاٹنے جیسی سخت سزائیں ہوں تو شاید لوگ قانون کی پابندی کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔”عدالت نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حاصل آزادی اور حقوق نہایت اہم ہیں، لیکن بعض افراد ان آزادیوں کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں، جو تشویش کا باعث ہے۔

یہ معاملہ منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک 23 سالہ طالب علم سے متعلق ہے، جس پر اس کی ایک ہم جماعت نے اپنی مرضی کے خلاف جنسی استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔ شکایت کے مطابق دونوں کچھ عرصے تک تعلق میں رہے تھے، تاہم بعد میں خاتون نے ملزم کے کردار پر شبہات کی بنیاد پر اس سے تعلق ختم کر لیا تھا۔متاثرہ طالبہ کا الزام ہے کہ تعلق ختم ہونے کے بعد بھی ملزم نے اس کی رضامندی کے بغیر جنسی استحصال کیا۔ اسی بنیاد پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہے۔

سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے پیش ہونے والی وکیل ایانتیکا منڈل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل تقریباً دو ماہ سے عدالتی حراست میں ہے اور اس کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں، لہٰذا اسے ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے فوری طور پر کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ہائی کورٹ نے کیس کی اگلی سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی ہے۔ اس دوران ریاستی حکومت اپنا جواب داخل کرے گی، جس کے بعد عدالت ضمانت کی درخواست پر مزید غور کرے گی۔ اس مقدمے کے دوران عدالت کے سخت تبصرے قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mohan Bhagwat IILM Speech: ’آج کی نسل زیادہ ایماندار ہے‘، موہن بھاگوت نے بتایا، انسانیت پر مبنی تعلیم کیوں ضروری؟

آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…

1 hour ago

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

13 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

14 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

16 hours ago