راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے تعلیم، باصلاحیت افراد کے بیرونِ ملک جانے اور نوجوان نسل کی کردار سازی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آئی آئی ایل ایم یونیورسٹی اور بین یان ٹری اسکول کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی مکالمے میں انہوں نے دسویں جماعت سے لے کر پوسٹ گریجویشن تک کے سیکڑوں طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے سوالات کے جواب دیے۔
’نئی نسل پرانی نسل سے زیادہ ایماندار‘
اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر موہن بھاگوت نے اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نئی نسل پرانی نسل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ایماندار ہے اور اس میں فطری طور پر زیادہ حوصلہ اور وضاحت موجود ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں موجود توانائی اور صلاحیت کو اگر صحیح سمت دی جائے تو ہندوستان کا مستقبل انتہائی روشن ہو سکتا ہے۔
’صلاحیت کا فرار‘ روکنے کی اپیل
بیرونِ ملک جا کر بسنے اور برین ڈرین سے متعلق سوال پر موہن بھاگوت نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ بیرونِ ملک انہیں مادی سہولیات اور آسائشیں ضرور مل سکتی ہیں، لیکن ان کی حقیقی شناخت ہندوستان سے ہی وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یہ زندگی ہندوستان کے اناج اور پانی سے بنی ہے۔ اس لیے انسان کو اپنی ضرورت کے مطابق وسائل اپنے پاس رکھتے ہوئے باقی صلاحیت اور وسائل سماج اور ملک کی تعمیر کے لیے وقف کرنے چاہئیں۔
تعلیم کا مقصد ’انسان سازی‘ ہونا چاہیے
موہن بھاگوت نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت یا کامیاب کیریئر حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی مقصد ’انسان سازی‘ بھی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم ہی وہ قوت ہے جو انسان کو حیوان سے الگ کرتی ہے۔
انہوں نے حالیہ فلم ’ہنومان انش‘، نیم کروڑی بابا، اسٹیو جابز اور سوامی وویکانند کے گرو رام کرشن پرم ہنس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی عظیم شخصیات کے پاس رسمی اسکولی تعلیم زیادہ نہیں تھی، لیکن وہ انسانیت اور اپنے اعلیٰ کردار کی وجہ سے معاشرے کے لیے بڑے رہنما ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم کے ساتھ انسانی اقدار پر مبنی تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔
’صرف اقتصادی یا فوجی طاقت بننا مقصد نہیں‘
دنیا میں ہندوستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کا مقصد صرف اقتصادی یا فوجی طاقت بننا نہیں، بلکہ دنیا کو صحیح سمت دکھانے والے ’وشو گرو‘ کے مقام پر دوبارہ قائم ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’انسانیت کا علم‘ اور ’وَسودھیو کٹم بکم‘ کی سوچ دنیا میں ہندوستان کی منفرد شناخت ہے۔
انل رائے نے قدر پر مبنی تعلیم پر دیا زور
پروگرام کی تمہیدی گفتگو آئی آئی ایل ایم کے چیئرمین انل رائے نے کی۔ انہوں نے موجودہ دور میں قدر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور اساتذہ نے موہن بھاگوت کے خیالات کو اپنی زندگی میں اپنانے اور ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…