پنجاب میں اسمبلی انتخابات کی آہٹ کے ساتھ ہی ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کی پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ وہ مسلسل پنجاب کا دورہ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اپنے دوروں کے دوران وہ پگڑی پہن کر اور پنجابی زبان میں لوگوں سے بات چیت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اسے پنجاب کے لوگوں سے جڑنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی دوران پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے نائب سنگھ سینی کی پگڑی سے متعلق ایسا تبصرہ کردیا، جس سے سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ سینی پنجاب میں داخل ہونے سے پہلے پگڑی پہنتے ہیں اور پگڑی کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھگونت مان کے اس بیان کے بعد پنجاب میں پگڑی سے متعلق سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا۔
دستار پر مان کے تبصرے سے جذبات مجروح
نائب سنگھ سینی نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستار یعنی پگڑی محض لباس کا حصہ نہیں بلکہ سکھ گروؤں کے احترام اور روایت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق گروؤں کے احترام سے متعلق بھگونت مان کے تبصرے سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اس لیے انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔
کانگریس نے شروع کیا ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام
دوسری طرف کانگریس نے اپنی تنظیمی تیاریوں کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کردیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔ پارٹی نے اتر پردیش اور ہماچل پردیش میں نئی میڈیا ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ یہ پروگرام کانگریس کے میڈیا اور تشہیری شعبے کے سربراہ اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ اس کا مقصد ایسے لوگوں کو پارٹی سے جوڑنا ہے جو پارٹی کے نظریات، آئین اور جمہوری اقدار کو سمجھتے ہوں اور میڈیا و عوامی پلیٹ فارم پر پارٹی کا موقف مؤثر انداز میں پیش کرسکیں۔
یوپی میں 100 سے زیادہ افراد کی ٹیم
اتر پردیش میں کانگریس نے 100 سے زیادہ افراد پر مشتمل ٹیم تیار کی ہے۔ اس میں ترجمان، میڈیا پینلسٹ، تحقیق کار اور تشہیری کارکن شامل ہیں۔ وہیں ہماچل پردیش میں بھی درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو نئی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز
سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب میں پگڑی کا تنازع اور کانگریس کی نئی میڈیا ٹیم کی تشکیل، دونوں ہی آنے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں سے جڑے معاملات ہیں۔ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، تو دوسری طرف کانگریس اپنی میڈیا حکمت عملی اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کیون رڈ نے کہا - ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے…
17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس…
گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…
ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے مویشی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…