برج ٹاؤن (بارباڈوس): ویسٹ انڈیز کے عظیم ترین کرکٹر اور دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں شمار کیے جانے والے سرگارفیلڈ سوبرز جمعہ کو اپنے آبائی وطن بارباڈوس میں انتقال کر گئے۔ وہ 89 برس کے تھے۔ ان کے انتقال سے عالمی کرکٹ ایک ایسے عہد سے محروم ہو گئی جس نے دو دہائیوں تک اپنے غیر معمولی کھیل سے کرکٹ کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کرکٹ ویسٹ انڈیز نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘‘
A great innings has come to an end. In our hearts, now and forever, Sir Garfield Sobers. 🖤🏏 pic.twitter.com/bv2MO1SJgz
— Windies Cricket (@windiescricket) July 17, 2026
بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بے مثال کارنامے
سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچوں میں 8,032 رنز بنائے۔ ان کا بیٹنگ اوسط 57.78 رہا جبکہ انہوں نے 26 سنچریاں بھی اسکور کیں۔ بولنگ میں بھی ان کی صلاحیتیں غیر معمولی تھیں۔ بائیں ہاتھ کے اس آل راؤنڈر نے 235 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں اور وہ بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم، آرتھوڈوکس اسپن اور چائنامین اسپن، تینوں انداز میں مؤثر بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ میدان میں اپنی شاندار فیلڈنگ اور قریبی کیچز کے لیے بھی مشہور تھے۔
ریکارڈ ساز اننگز اور تاریخی کامیابیاں
سر گارفیلڈ سوبرز نے 1958 میں پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیل کر اُس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو 36 برس تک برقرار رہا۔ انہوں نے 1968 میں ناٹنگھم شائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے گلیمورگن کے اسپنر میلکم نیش کے ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگا کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے پہلے بلے باز بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اسی طرح وہ آسٹریلیا میں ایک سیزن کے دوران ایک ہزار رنز اور 50 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے کرکٹر بھی تھے، جو ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
اعزازات اور ہمیشہ زندہ رہنے والی میراث
سر گارفیلڈ سوبرز کی کرکٹ کے لیے بے مثال خدمات کے اعتراف میں 1975 میں ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں نائٹ ہڈ کے اعزاز سے نوازا۔ بعد ازاں 2000 میں انہیں وزڈن کے ’’بیسویں صدی کے پانچ عظیم کرکٹرز‘‘ میں شامل کیا گیا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے مردوں کی بین الاقوامی کرکٹ میں سال کے بہترین کھلاڑی کے لیے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز کا نام ’’سر گارفیلڈ سوبرز ٹرافی‘‘ رکھا۔ سر گارفیلڈ سوبرز کا انتقال کرکٹ کی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، تاہم ان کی شاندار کامیابیاں، ریکارڈز اور کھیل کے لیے خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…