جلیلؔ مانک پوری کا اصل نام جلیل حسن تھا۔ وہ 1862ء میں مانک پور، ضلع پرتاب گڑھ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآن شریف حفظ کر لیا اور فارسی و عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی علمی بنیاد اتنی مضبوط تھی کہ بعد میں وہ نہ صرف شاعر بنے بلکہ دلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کے مشاعروں میں اپنا لوہا منوایا۔
آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے
لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا
جلیل مانک پوریؔ
ان کا ادبی سفر امیر مینائی جیسے استاد کی صحبت سے روشن ہوا۔ وہ رامپور، بھوپال اور پھر حیدرآباد کے ادبی مراکز سے وابستہ رہے۔ ان کے کلام میں لطافت، روانی اور نکتہ سنجی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف غزل ہی نہیں کہی بلکہ عروض، محاورات اور اردو زبان کے کئی اہم پہلوؤں پر بھی کام کیا۔ ان کی چند مشہور کتب میں تاج سخن، جان سخن اور روح سخن شامل ہیں۔
جلیلؔ کی شخصیت بڑی دلکش تھی۔ متوسط قد، گندمی رنگ، باریش چہرہ، آنکھوں میں سرمہ، ہاتھ میں پان اور لباس میں ہمیشہ سلیقہ مندی۔ وہ روایتی لباس میں بھی کمال کے نفیس لگتے تھے اور جب کبھی شاہی دربار کی تقریبات ہوتیں تو انگریزی لباس بھی شان سے زیب تن کرتے۔
6 جنوری 1946ء کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں، اردو ادب کا ایک روشن چراغ تھے۔ ان کی غزلیں نہ صرف محبوب کے چہرے کی جھلک بیان کرتی ہیں بلکہ انسانی جذبات کی گہرائیوں میں بھی جھانکتی ہیں۔ اگر آپ نے جلیلؔ مانک پوری کا کلام ابھی تک نہیں پڑھا تو آج ہی ان کی غزلیں پڑھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…